سوالات و جوابات

’لجنۃ العلماء للإفتاء‘ کے تحت کبار مفتیان کرام کی زیر نگرانی چلنے والا سلسلہ تو ایک عرصہ سے الحمدللہ رواں دواں ہے، جس میں معتبر مفتیان کرام اور شیوخ الحدیث کے فتاوی وقتا فوقتا آتے رہتے ہیں، جو کہ ویب سائٹ کے فتاوی سیکشن میں ملاحظہ کیے جاسکتے ہیں۔
کسی بھی سوال کا جواب باقاعدہ فتوی کی شکل میں جاری کرنا، اس پر وقت درکار ہوتا ہے، اور وہ مختلف مراحل سے گزر کر ہی منظر عام پر آسکتا ہے، اس لیے اسے ایک محدود پیمانے پر ہی سرانجام دیا جاسکتا ہے۔
البتہ ایک عرصے سے خواہش تھی کہ ’لجنۃ العلماء‘ کے تحت علمائے کرام پر مشتمل بعض متحرک گروپس میں آنے والے سوالات و جوابات کے سلسلے کو منظم و مرتب کرنے کی کوشش کی جائے، تاکہ انٹرنیٹ کی دنیا میں موجود وہ لوگ بھی اس سے فائدہ اٹھا سکیں جو علمائے کرام کے سرکل میں موجود نہیں ہوتے!
سوال و جواب کے اس مشترکہ سلسلے کا یہ فائدہ ہے کہ ایک ہی جواب میں مختلف اہل علم کی طرف سے تصحیح و بہتری کی گنجائش ہوتی ہے۔ اسی طرح کئی ایک اہل علم کے جوابات محفوظ ہونے کا بندوبست ہو جاتا ہے۔ ورنہ ہوسکتا ہے کہ روزانہ ایک عالم دین دس پندرہ جواب وائس کی صورت میں دیتے ہوں، لیکن ان میں سے تحریری صورت میں ایک بھی نہ ہو۔ ہو سکتا ہے کہ کوئی تحریری صورت میں کئی جواب دیتے ہوں، اور دلائل بھی ان کے علم میں ہوں، لیکن انہیں فوری طور پر دلائل اور ان کا حوالہ جات کا اضافہ کرنا مشکل ہو..!
ایک ضروری وضاحت
یہاں ایک وضاحت ضروری ہے کہ چونکہ شرعی مسائل کا جواب وہی دے سکتاہے جو باقاعدہ عالم دین ہے، لہذا جتنے بھی علمائے کرام کے نام آپ ملاحظہ فرمائیں گے، وہ سب کے سب باقاعدہ مستند علمائے کرام ہیں۔ البتہ عمر اور تجربہ کے لحاظ سے فرق کرنے کے لیے ہم نے سب علمائے کرام کو تین حصوں (طبقات) میں تقسیم کیا ہے اور ہر عالمِ دین کے نام سے پہلے ایک سابقے کا اضافہ کر دیا ہے، جس سے ان کے طبقہ کی وضاحت ہو جاتی ہے۔
فضیلة الشیخ: ایسے بزرگ عالم دین جن کی عمر پینتالیس برس سے اوپر ہے، اور ان کی زندگی کا اکثر حصہ دین کی درس و تدریس اور دعوت و تبلیغ میں گزرا ہے۔
فضیلة العالم: ایسے عالم دین جو باقاعدہ عالم دین ہیں، شرعی مسائل کے حل میں دلچسپی اور مہارت رکھتے ہیں لیکن ان کی عمر پینتالیس یا اس سے کم ہے۔
فضیلة الباحث: ایسے نوجوان طالب علم یا فاضل عالم دین جو باقاعدہ عالم دین ، جو شرعی مسائل کے جواب میں مہارت اور ملکہ پیدا کرنے کا ذوق و شوق رکھتے ہوں اور ان کی عمر تیس سال یا اس سے کم ہو اور بیس سال سے زیادہ ہو۔
یہ کوئی شرعی یا اصولی مسئلہ نہیں ہے، بلکہ ضرورت کے تحت یہ اصطلاحات استعمال کی گئی ہیں، تاکہ کبار و صغار اہل علم اور مشایخ میں فرق واضح کیا جا سکے۔ ولا مشاحة في الاصطلاح. باقی علم و فضل ہر کسی کا اس کی تحریر و گفتگو میں موجود ہوتا ہے، اور تقوی و للہیت کی بات ہو تو وہ اللہ رب العالمین سب سے بہتر جانتا ہے۔
تمام مشایخ، علمائے کرام اور باحثین کا شکریہ جو وقت نکال کر سوالات کے جوابات دیتے ہیں اور پھر تحریری شکل میں ترتیب دیے جانے کے بعد ان کی نظرثانی بھی فرماتے ہیں۔

سوالات و جوابات کے اس سلسلے کی خاص بات یہ ہے کہ اس میں صرف عوام کی طرف سے شرعی مسائل ہی نہیں پوچھے جاتے، بلکہ علمائے کرام آپس میں، اسی طرح طلبہ و اساتذہ مدارس کے ان سوالات کے بھی جواب ہوتے ہیں جو نحو و صرف، حدیث، اصول حدیث، فقہ، اصول فقہ سے تعلق رکھتے ہیں۔ اسی طرح علمائے کرام آپس میں ایک دوسرے کی یہ رہنمائی بھی کرتے ہیں کہ جدید ٹیکنالوجیز اور ٹولز کو کس طرح درس و تدریس، دعوت و تبلیغ اور تحریر و تصنیف میں استعمال کیا جا سکتا ہے۔

افطاری سے قبل اجتماعی دعا
  • 25 مارچ, 2024
  • العلماء
مسجد کے لیے زکاۃ کا استعمال
  • 25 مارچ, 2024
  • العلماء
افطار کا صحیح وقت کیا ہے؟
  • 25 مارچ, 2024
  • العلماء
روزے کا فدیہ
  • 25 مارچ, 2024
  • العلماء