سوال (6504)
السلام علیکم ورحمۃاللہ وبرکاتہ
ایک مسئلہ ہے اس کا جواب عنایت فرما کر عند اللہ ماجور ہوں، صحیح احادیث میں آتا ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کے بعد جزیہ ختم کر دیا جائے گا، صلیب توڑی جائے گی، اور اس دور میں اسلام کے سوا کوئی دین باقی نہیں رہے گا۔
دوسری طرف صحیح مسلم ہی کی حدیث ہے:
“لَا تَقُومُ السَّاعَةُ إِلَّا عَلَى شِرَارِ النَّاسِ”
کہ قیامت صرف بدترین لوگوں پر قائم ہوگی۔
میرا سوال یہ ہے کہ:
اگر عیسیٰ علیہ السلام کے زمانے میں کفر ختم ہو جائے گا اور سب لوگ مسلمان ہوں گے، تو پھر بعد میں وہ شِرارُ الناس کون ہوں گے جن پر قیامت آئے گی؟
کیا یہ دونوں باتیں بظاہر متعارض نہیں؟
جواب
وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
محترم، ان احادیث میں حقیقت میں کوئی تعارض یا تضاد موجود نہیں ہے۔ بعض اوقات انسان اپنے محدود فہم و ادراک کی وجہ سے اسے تعارض تصور کر لیتا ہے، حالانکہ نہ قرآن مجید میں کوئی تضاد ہے، نہ احادیثِ مبارکہ میں، اور نہ ہی قرآن و حدیث کا آپس میں کوئی تعارض ہے۔ مذکورہ دونوں احادیث اپنے اپنے مقام پر بالکل درست ہیں۔
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے عہدِ مبارک میں دنیا کے حالات مکمل طور پر سازگار ہو جائیں گے، فتنہ و فساد کا خاتمہ ہوگا اور روئے زمین پر صرف دینِ اسلام ہی باقی رہے گا۔ اس دور میں اس قدر مثالی امن و امان قائم ہوگا کہ شیر اور بکری ایک ہی گھاٹ پر پانی پیئیں گے، بچے سانپوں کے ساتھ کھیلیں گے اور وہ انہیں کوئی نقصان نہیں پہنچائیں گے۔ تمام لوگ باہم بھائی بھائی بن جائیں گے اور ان میں مثالی یگانگت پیدا ہو جائے گی۔
حضرت عیسیٰ علیہ السلام اپنی مقررہ مدتِ حیات مکمل کرنے کے بعد اس دنیا سے رخصت ہو جائیں گے اور ان کی نمازِ جنازہ ادا کی جائے گی۔ ان کی وفات کے بعد حالات یکسر تبدیل ہو جائیں گے۔ لوگ دوبارہ اپنے آبا و اجداد کے (باطل) طریقوں کی طرف لوٹ جائیں گے اور سرِ عام جانوروں کی مانند بدکاری میں مبتلا ہو جائیں گے۔ عقل اور شہوت کے اعتبار سے ان کی حالت درندوں اور بھیڑیوں جیسی ہو جائے گی۔
چنانچہ قیامت سے قبل یہ تمام مراحل پیش آئیں گے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی آمد قیامت کی ایک بڑی نشانی ہے، جس کے بعد ایک عرصہ تک سب کچھ درست رہے گا، لیکن ان کے بعد دنیا دوبارہ بگاڑ کا شکار ہو جائے گی۔ بالآخر جب زمین پر صرف بدترین لوگ (شرار الناس) باقی رہ جائیں گے، تو انہی پر قیامت برپا ہوگی۔
فضیلۃ الشیخ عبدالوکیل ناصر حفظہ اللہ




