سوال        6741

حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ هَمَّامٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ يَعْنِي: لَوْلَا بَنُو إِسْرَائِيلَ لَمْ يَخْنَزْ اللَّحْمُ، وَلَوْلَا حَوَّاءُ لَمْ تَخُنَّ أُنْثَى زَوْجَهَا.

اگر قوم بنی اسرائیل نہ ہوتی تو گوشت نہ سڑا کرتا اور اگر حواء نہ ہوتیں تو عورت اپنے شوہر سے دغا نہ کرتی۔ [صحیح بخاری: 3330]
وضاحت درکار ہے؟

جواب

کوئی اشکال نہیں ہے اگر حدیث کو دیانتداری کے ساتھ پڑھا جائے اور کتاب و سنت اور نہجِ سلف کو سامنے رکھا جائے، تو اس میں کوئی ابہام یا اشکال نہیں۔
اس حدیث سے صرف اتنا پیغام ملتا ہے کہ پہلے کھانے میں بدبو پیدا نہیں ہوتی تھی، چاہے کتنا عرصہ بھی وہ کھانا رہتا، کیونکہ اس وقت سٹاک کرنے یا چھپا کر رکھنے کی نیت نہیں تھی۔
پھر بنی اسرائیل نے کھانے کو چھپا کر رکھنا شروع کیا، یعنی ابتدا انہی کی طرف سے ہوئی۔ حدیث میں اسی بات کی نشاندہی ہے کہ جب انہوں نے کھانا چھپا کر رکھا، من و سلویٰ بھی کل یا پرسوں کھائیں گے، تو اللہ نے اس میں بدبو پیدا کر دی۔ یہ پہلا عمل تھا جو ان کی طرف سے صادر ہوا۔
اسی طرح، جب سیدنا آدم علیہ الصلوٰۃ والسلام نے درخت کا دانہ چکھا، تو اگرچہ دونوں آدم اور حوا شریک تھے، لیکن حدیث سے اندازہ ہوتا ہے کہ سیدہ حوا نے شاید کچھ زیادہ مشورہ دیا یا اشارہ کیا، جیسے عورتیں اکثر کہتی ہیں کہ “کچھ نہیں ہوتا”۔
لہذا، یہ پہلا عمل تھا جو سیدہ حوا سے صادر ہوا، اور اس میں انسانی کمزوری کی مثال بھی نظر آتی ہے کیونکہ بشر ہونے کے ناتے انسان غلطی سے خالی نہیں ہوتا۔
یہ حدیث کسی کی توہین نہیں کرتی، نہ اس میں کوئی ابہام یا اشکال ہے، بلکہ صرف ایک سبق اور پیغام دیتی ہے کہ کس طرح پہلی انسانی غلطی واقع ہوئی اور اس سے عبرت حاصل کی جا سکتی ہے۔

فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ