سوال 6805
اگر محلے میں اہل حدیث حضرات کی مسجد نہیں احناف نماز تراویح پڑھا رہے ہیں تو کیا ان کے ساتھ شریک ہونا چاہیے یا نہیں؟
اگر بالفرض ان کے ساتھ نماز تراویح پڑھیں تو کیا امام کے ساتھ 20 رکعات اور وتر پڑھ کر جائیں یا پہلے جا سکتے ہیں؟
من قام مع الامام حتی ینصرف۔۔۔ والی روایت سامنے رکھ کر جواب ارشاد فرمائیں۔
جواب
السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
دیکھیں جب رسول اللہ ﷺ سے رمضان کے قیام میں جو معمول ثابت ہے، وہ گیارہ رکعات ہے، تو سنتِ مسنون کی اصل صورت یہی ہوئی۔
البتہ اگر کوئی شخص کبھی کبھار نفل کے طور پر اس سے زیادہ رکعات پڑھ لے تو اس میں کوئی حرج نہیں، کیونکہ نوافل میں وسعت ہے۔ لیکن مستقل طریقہ اختیار کرنے کی بات ہو تو سنت کی پیروی بہتر اور اولیٰ ہے۔
اگر آپ کسی ایسی مسجد میں ہوں جہاں حنفی امام بیس رکعات تراویح پڑھاتے ہوں، اور آپ کو اپنی پسند کے مطابق گیارہ رکعات والی جماعت میسر نہ ہو، تو بہتر یہ ہے کہ آپ جماعت کے ساتھ شریک رہیں۔ دو دو رکعت کر کے دس رکعات مکمل کریں، پھر ایک طرف ہو کر اپنا ایک وتر ادا کر لیں۔ اس طرح آپ کی گیارہ رکعات مکمل ہو جائیں گی۔
اس طرزِ عمل سے آپ ان شاء اللہ اس بشارت کے بھی مستحق ہو سکتے ہیں، جس کا ذکر نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
«مَنْ قَامَ مَعَ الْإِمَامِ حَتّىٰ يَنْصَرِفَ كُتِبَ لَهُ قِيَامُ لَيْلَةٍ»
“جو شخص امام کے ساتھ قیام کرے یہاں تک کہ امام فارغ ہو جائے، اس کے لیے پوری رات کے قیام کا اجر لکھ دیا جاتا ہے۔”
لہذا مقصود یہ ہونا چاہیے کہ سنت کی پیروی بھی ہو اور اجر و فضیلت بھی حاصل ہو۔ ہم اللہ احکم الحاکمین سے امید رکھتے ہیں کہ وہ اخلاص کے ساتھ کیے گئے عمل کو قبول فرمائے۔ آمین
فضیلۃ العالم حافظ علی عبد اللہ حفظہ اللہ
یہاں پر میرا ایک سوال ہے، اور میں آپ کی بات میں ایک اضافہ کرنا چاہوں گا۔ کیا ہم لوگ ان کے ساتھ نماز پڑھتے ہوئے ان کے ساتھ مل سکتے ہیں؟ جس کو پنجابی میں کہتے ہیں نا کہ “تُسی رل جاؤ گے۔”
حقیقتِ حال یہ ہے کہ ہم لوگ ان کے ساتھ نماز ادا کر ہی نہیں سکتے، جتنی ان کی رفتار ہوتی ہے۔ نماز کی جو کیفیت اور سکون مطلوب ہوتا ہے، وہ اس تیز رفتاری میں قائم نہیں رہ پاتا۔
لہذا اس پہلو پر ذرا تھوڑی سی توجہ دینے کی ضرورت ہے، تاکہ نماز ادا کرنے کا جو اصل مقصد ہے، وہ فوت نہ ہو۔
فضیلۃ الشیخ عبد الرزاق زاہد حفظہ اللہ
امام کا صحیح العقیدہ ہونا ضروری ہے اور سنت کے مطابق نماز پڑھانا بھی لازم ہے۔ یہ دونوں خصوصیات بعض جگہوں پر موجود نہیں ہوتیں۔
لہذا اگر فوراً نماز پڑھنی پڑ جائے یا فتنے کے ڈر سے بامر مجبوری میں پڑھ لی جائے، تو بہتر ہے کہ بعد میں نماز کو دہرا لیا جائے۔
یعنی روزانہ یا قصداً وہاں جا کر نمازیں ادا کرنے کی ضرورت نہیں۔ آپ وقت سے پہلے اپنے مطابق نماز پڑھ کر آ سکتے ہیں، یا بعد میں جا کر جب ان کی جماعت ختم ہو جائے، یا گھر میں سنت کے مطابق نماز ادا کریں۔
اس طرح نماز کی صحت اور سنت کی پیروی دونوں برقرار رہیں گی۔
فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ




