سوال (6490)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، أَخْبَرَنَا مَيْمُونٌ الْمَرَئِيُّ، حَدَّثَنَا مَيْمُونُ بْنُ سِيَاهٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:” مَا مِنْ قَوْمٍ اجْتَمَعُوا يَذْكُرُونَ اللَّهَ، لَا يُرِيدُونَ بِذَلِكَ إِلَّا وَجْهَهُ، إِلَّا نَادَاهُمْ مُنَادٍ مِنَ السَّمَاءِ أَنْ قُومُوا مَغْفُورًا لَكُمْ، قَدْ بُدِّلَتْ سَيِّئَاتُكُمْ حَسَنَاتٍ،

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جب کوئی جماعت اکٹھی ہو کر اللہ کا ذکر کرتی ہے اور اس سے اس کا مقصد صرف اللہ کی رضا ہوتی ہے تو آسمان سے ایک منادی آواز لگاتا ہے کہ تم اس حال میں کھڑے ہو کہ تمہارے گناہ معاف ہوچکے اور میں نے تمہارے گناہوں کو نیکیوں سے بدل دیا۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 12453]
اس حدیث سے یہ استدلال ٹھیک ہے کہ اجتماعی ذکر جائز ہے؟

جواب

لوگوں کا ایک جگہ بیٹھ کر درس سننا یہ بھی ذکر الہیٰ ہے، ایک جگہ قرآن پڑھنا اور مشق کرنا یہ بھی ذکر ہے، ایک جگہ بیٹھ کر سبحان اللہ اور الحمد للہ کہنا یہ بھی ذکر الہیٰ ہے، دیکھنے میں یہ اجتماعی ہے، حقیقت میں یہ اجتماعی نہیں ہے، تعداد بڑھنے کی وجہ سے ایسا ہے، اجتماعی ذکر یہ ہے، جس کو ہم مذموم کہتے ہیں وہ یہ ہے کہ ایک بندہ بلند آواز سے کہتا ہے، باقی سب اس کے پیچھے کہتے ہیں، پوری مسجد گونج جاتی ہے، باقی پچاس سو آدمی جمع ہیں، اپنا اپنا ذکر کر رہے ہیں، اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔

فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ

اصول یہ ہے کہ ایک ہی معنی کی تمام روایات جمع کریں، پھر معنیٰ اخذ کریں، اس روایت کے ہم معنیٰ بہت ساری روایات ہیں، پھر دیکھے محدثین اور فقہاء نے کیا اخذ کیا ہے، صحابہ کرام، تابعین اور تبع تابعین کا تعامل دیکھیں، پھر زمانہ تدوین حدیث کو دیکھیں کہ محدثین نے حدیث پر کیسے عمل کیا ہے، مروجہ طریقے اہل بدعت کے ہاں وہ قرآن و حدیث اور سلف صالحین سے ثابت نہیں ہے، قرآن و حدیث کی تعلیمات ان کے مخاطب خیر قرون والے ہیں، ان کو دیکھ عمل پیرا ہونا چاہیے۔

فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ