سوال 6751
أبغضُ الحلالِ إلى اللهِ الطلاقُ،
اس حدیث کا کیا حکم ہے؟
جواب:
علی الراجح یہ روایت مرسل ہے اسے موصول بیان کرنے میں راوی سے خطاء ہوئی ہے
معرف بن واصل سے اسے مرسلا روایت کرتے ہیں امام وکیع بن الجراح ( مصنف ابن أبي شيبة: 20328) ،أحمد بن یونس( سنن أبو داود: 2177 مستدرک حاکم میں مسندا بیان ہونا وھم وخطاء ہے ) ،یحیی بن بکیر( السنن الكبرى للبيهقى: 14896)
امام أبو حاتم الرازی نے کہا:
ﺇﻧﻤﺎ ﻫﻮ: ﻣﺤﺎﺭﺏ، ﻋﻦ اﻟﻨﺒﻲ صلی الله علیہ وسلم ﻣﺮﺳﻞ
علل الحديث لابن أبي حاتم الرازى: (1297)
امام ابو حاتم الرازی نے بتایا ہے کہ اس روایت میں ابن عمر کا واسطہ ذکر کرنا خطاء و وہم ہے اور یہ محارب پر مرسل ہے۔
امام دارقطنی نے کہا:
ﻓﺮﻭاﻩ ﻣﺤﻤﺪ ﺑﻦ ﺧﺎﻟﺪ اﻟﻮﻫﺒﻲ، ﻋﻦ ﻣﻌﺮﻑ، ﻋﻦ ﻣﺤﺎﺭﺏ، ﻋﻦ اﺑﻦ ﻋﻤﺮ، ﻋﻦ اﻟﻨﺒﻲ ﺻﻠﻰ اﻟﻠﻪ ﻋﻠﻴﻪ ﻭﺳﻠﻢ.
ﻭﺭﻭاﻩ ﺃﺑﻮ ﻧﻌﻴﻢ، ﻋﻦ ﻣﻌﺮﻑ، ﻋﻦ ﻣﺤﺎﺭﺏ ﻣﺮﺳﻼ، ﻋﻦ اﻟﻨﺒﻲ ﺻﻠﻰ اﻟﻠﻪ ﻋﻠﻴﻪ ﻭﺳﻠﻢ.
ﻭاﻟﻤﺮﺳﻞ ﺃﺷﺒﻪ۔
العلل للدارقطني: (3123)13/ 225
امام دارقطنی نے بھی مرسل ہونے کو ہی راجح قرار دیا ہے۔
کیونکہ جو مرسلا بیان کرتے ہیں وہ مسندا بیان کرنے والے کی نسبت أحفظ وأوثق ہیں۔
یعنی یہاں جس نے مسندا بیان کیا اسے خطاء لگی ہے۔
ابن ملقن کی البدرالمنیر میں ہے۔
ﻭﻫﺬا ﻣﺮﺳﻞ ﻛﻤﺎ ﺗﺮﻯ، ﻭﻗﺎﻝ اﺑﻦ ﺃﺑﻲ ﺣﺎﺗﻢ: ﺳﺄﻟﺖ ﺃﺑﻲ ﻋﻦ ﺣﺪﻳﺚ اﺑﻦ ﻋﻤﺮ ﻫﺬا، ﻓﻘﺎﻝ: ﺇﻧﻤﺎ ﻫﻮ ﻋﻦ ﻣﺤﺎﺭﺏ ﻋﻦ ﺭﺳﻮﻝ اﻟﻠﻪ- ﺻﻠﻰ اﻟﻠﻪ ﻋﻠﻴﻪ ﻭﺳﻠﻢ ﻣﺮﺳﻞ، ﻭﻛﺬا ﻗﺎﻝ اﻟﺪاﺭﻗﻄﻨﻲ ﻓﻲ ﻋﻠﻠﻪ: ﺇﻥ اﻟﻤﺮﺳﻞ ﺃﺷﺒﻪ، ﻭﻗﺎﻝ اﻟﻤﻨﺬﺭﻱ: ﺇﻥ اﻟﻤﺸﻬﻮﺭ ﻓﻲ ﻫﺬا اﻟﺤﺪﻳﺚ ﺃﻧﻪ ﻣﺮﺳﻞ، ﻗﺎﻝ: ﻭﻫﻮ ﻏﺮﻳﺐ، ﻭﻗﺎﻝ اﻟﺒﻴﻬﻘﻲ ﻓﻲ ﺭﻭاﻳﺔ اﺑﻦ ﺃﺑﻲ ﺷﺒﻴﺔ- ﻳﻌﻨﻲ: ﻣﺤﻤﺪ ﺑﻦ ﻋﺜﻤﺎﻥ- ﻳﻌﻨﻲ: اﻟﺴﺎﻟﻔﺔ اﻟﻤﻮﺻﻮﻟﺔ ۔ﻭﻻ ﺃﺭاﻩ ﻳﺤﻔﻈﻪ.
البدر المنير لابن ملقن :8/ 66 ،67
المقاصد الحسنة للسخاوي میں ہے۔
ﻭﻫﺬا ﻣﺮﺳﻞ، ﻭﻫﻮ ﻭﺇﻥ ﺃﺧﺮﺟﻪ اﻟﺤﺎﻛﻢ ﻓﻲ ﻣﺴﺘﺪﺭﻛﻪ ﻣﻦ ﺟﻬﺔ ﻣﺤﻤﺪ ﺑﻦ ﻋﺜﻤﺎﻥ اﺑﻦ ﺃﺑﻲ ﺷﻴﺒﺔ ﻋﻦ ﺃﺣﻤﺪ ﺑﻦ ﻳﻮﻧﺲ ﻫﺬا ﻓﻮﺻﻠﻪ ﺑﺈﺛﺒﺎﺕ اﺑﻦ ﻋﻤﺮ ﻓﻴﻪ، ﻭﻟﻔﻈﻪ: ﻣﺎ ﺃﺣﻞ اﻟﻠﻪ ﺷﻴﺌﺎ ﺃﺑﻐﺾ ﺇﻟﻴﻪ ﻣﻦ اﻟﻄﻼﻕ، ﻓﻘﺪ ﺭﻭاﻩ اﺑﻦ اﻟﻤﺒﺎﺭﻙ ﻓﻲ اﻟﺒﺮ ﻭاﻟﺼﻠﺔ ﻟﻪ، ﻭﻛﺬا ﺃﺑﻮ ﻧﻌﻴﻢ- اﻟﻔﻀﻞ ﺑﻦ ﺩﻛﻴﻦ- ﻛﻼﻫﻤﺎ ﻋﻦ ﻣﻌﺮﻑ ﻛﺎﻷﻭﻝ، ﻭﻟﺬا ﻗﺎﻝ اﻟﺪاﺭﻗﻄﻨﻲ ﻓﻲ ﻋﻠﻠﻪ: اﻟﻤﺮﺳﻞ ﻓﻴﻪ ﺃﺷﺒﻪ، ﻭﻛﺬﻟﻚ ﺻﺤﺢ اﻟﺒﻴﻬﻘﻲ ﺇﺭﺳﺎﻟﻪ، ﻭﻗﺎﻝ: ﺇﻥ اﻟﻤﺘﺼﻞ ﻟﻴﺲ ﻣﺤﻔﻮﻇﺎ، ﻭﺭﺟﺢ ﺃﺑﻮ ﺣﺎﺗﻢ اﻟﺮاﺯﻱ ﺃﻳﻀﺎ اﻟﻤﺮﺳﻞ، ﻭﺻﻨﻴﻊ ﺃﺑﻲ ﺩاﻭﺩ ﻣﺸﻌﺮ ﺑﻪ، ﻓﺈﻧﻪ ﻗﺪﻡ اﻟﺮﻭاﻳﺔ اﻟﻤﺮﺳﻠﺔ، ﺧﻼﻓﺎ ﻟﻤﺎ اﻗﺘﻀﺎﻩ ﻗﻮﻝ اﻟﺰﺭﻛﺸﻲ: ﺛﻢ ﺭﻭاﻩ ﺃﺑﻮ ﺩاﻭﺩ ﻣﺘﺼﻼ ﻋﻦ ﻛﺜﻴﺮ ﺑﻦ ﻋﺒﻴﺪ ﻋﻦ ﻣﺤﻤﺪ ﺑﻦ ﺧﺎﻟﺪ اﻟﻮﻫﺒﻲ ﻋﻦ ﻣﻌﺮﻑ ﺑﻠﻔﻆ اﻟﺘﺮﺟﻤﺔ
المقاصد الحسنة للسخاوي: (10)
اور یہ دوسرا طریق کو امام ابو داود نے نقل کیا وہ ضعیف ہے اور ان کے نزدیک بھی راجح اس روایت کا مرسل ہونا ہے۔
الحاصل: یہ روایت علی الراجح مرسل ہے اور مرسل ضعیف کی ایک قسم ہے اسے موصولا بیان کرنا راوی کا وھم وخطاء ہے۔
والله أعلم بالصواب
فضیلۃ العالم ابو انس طیبی حفظہ اللہ




