سوال (1948)

عَنْ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ اللَّهُمَّ ارْزُقْنِي شَهَادَةً فِي سَبِيلِكَ وَاجْعَلْ مَوْتِي فِي بَلَدِ رَسُولِكَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ [صحیح البخاری : 1890]

علماء کرام سے سوال یہ ہے کہ یہ حدیث کیسے ہے؟

جواب

یہ مرفوع حدیث نہیں ہے، بلکہ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی دعا کابیان ہے، البتہ بسا اوقات اقوال صحابہ کو بھی حدیث کہہ دیا جاتا ہے۔

فضیلۃ الشیخ سعید مجتبیٰ سعیدی حفظہ اللہ

غالباً سوال میں یہ پوچھا جا رہا ہے کہ کیا اس کو حدیث کہا جا سکتا ہے؟ جی اس کو حدیث کہا جا سکتا ہے، اس کی سند موجود ہے، لیکن موقوفاً ثابت ہے، یہ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی دعا ہے جو صحیح سند سے ثابت ہے، اس کو اثر یا قول صحابی بھی کہا جاتا ہے، لیکن محدثین کی اصطلاح میں اس کو حدیث بھی کہتے ہیں۔

فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ

سائل :
امام بخاری رحمہ اللہ کی کتاب کا نام

“الجامع المسند الصحيح المختصر من أمور رسول الله صلی الله علیه وسلم وسننه وایامه” ہے،

تو پھر اس اثر کو ذکر کرنے کا کیا مقصد ہے ، اس کی وضاحت فرمائیں۔
جواب:

“وَاجْعَلْ مَوْتِي فِي بَلَدِ رَسُولِكَ” میں “بَلَدِ رَسُولِكَ”

کا ذکر ہوگیا ہے تو اس میں ہر چیز کا ذکر آگیا ہے، اب اس کو امور سے جوڑ دیں، ایام سے جوڑ دیں یا شب و روز کی زندگی سے جوڑ دیں، تو یہی اس کی مناسبت ہے ، امام بخاری رحمہ اللہ نے جنرلی نام تو یہ رکھا ہے، لیکن اس میں تفصیل ہے، جس کو اہل علم بڑی تفصیل سے بتا چکے ہیں، یہ وضاحت تفصیل سے کردی گئی ہے کہ اس نام کا اطلاق کہاں ہوگا، معلقات یا مراسلات کا اطلاق کہاں ہوگا۔

فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ