سوال (6587)

شفاء من كل داء: امام شافعی فرماتے ہیں۔ کہ بنو امیہ کے خزائن میں سے ایک چاندی کا بکس ملا اور اس کے اوپر حروف میں “شفاء من كل داء” لکھا تھا۔ (یعنی ہر بیماری سے شفاء )۔ ہم لوگوں نے نہایت خجش اور اشتیاق سے اس ڈبیہ کو کھولا۔ کہ اس میں ایسا کونسا تریاق رکھا گیا ہے۔ جو جسم کی ایک آدھی بیماری کے لئے نہیں۔ بلکہ ہر طرح کی بیماری کے لئے سراپا شفاء ہے۔ ڈبیہ کھولا تو اندر کسی دوائی کی بجائے کاغذ کا ایک پرچہ تہہ میں پڑا ہوا تھا۔ اس پر درج ذیل دعا لکھی ہوئی تھی۔
امام شافعی فرماتے ہیں۔ کہ جب سے یہ پرچہ میرے ہاتھ لگا ہے۔ میں تو ہر بیماری میں یہی دعاء پڑھتا ہوں۔ اور اس کی برکت سےاللہ تعالی شفا نصیب فرما دیتے ہیں۔ اس پرچے نے میری تو بلبیوں سے جان چھڑا دی۔
اس دعا کو ہم نے بھی ہزار ہا جگہ آزمایا ہے اور جیسے پانی آگ کو فوراً بجھا دیتا ہے، اس طرح یہ فوری اثر دکھاتی ہے۔
دعا یہ ہے:

بِـسْـمِ الـلّٰـهِ وَبِـالـلّٰـهِ وَلَا حَـوْلَ وَلَا قُـوَّةَ إِلَّا بِـالـلَّـهِ الْـعَـلِـيِّ الْـعَـظِـيْـمِ اُسْـكُـنْ أَيُّـهَـا الْـوَجْـعُ بِـالـلَّـهِ الَّـذِىْ سَـكَـنَ لَـهُ مَـا فِـي الـلَّـيُـلِ وَالـنَّـهَـارِ وَهُـوَ الـسَّـمِـيْـعُ الْـعَـلِـيـمُ بِـسْـمِ الـلّٰـهِ الرَّحمنِ الرَّحِيمِ بِسْمِ اللّٰهِ وَبِـالـلَّـهِ وَلَا حَـوْلَ وَلَا قُـوَّةَ إِلَّا بِـالـلَّـهِ الْـعَـلِـيِّ الْـعَـظِـيـمِ اسْـكُـنُ أَيُّـهَـا الْـوَجـعَ بِـالـلّٰـهِ الَّـذِىَ إِن يَـشَـاٌ يُـسْـكِـنِ الـرِّيـحَ فَــيَــظــلَــلْــنَ رَوَا كَــدَ عَــلُّــى ظَـهْـرِهٖ إِنَّ فِـي ذَلِـكَ لاً يَـاتِِ لِـكُـلِّ صَـبَّـارِِ شَـكُـورِِ بِـسـمِ الـلّٰـهِ وَبِـالـلّٰـهِ وَلَا حَـوْلَ وَلَا قُـوَّةَ إِلَّا بِـالـلَّـهِ الْـعَـلِى الْـعَـظِـيـمِ سَـكَـنْـتُـكَ أَيُّـهَـا الْـوَجْـعُ بِـالـلَّـهِ الَّـذِىْ يُـمْـسِـكُ الـسَّـمَـآءَ اَنْ تَـفَـعَ عَـلَـى الأَرْضِ إِلَّا بِـاِذْنِـهَٖ إِنَّ الـلَّـهَ بِـالـنَّـاسِ لَـرَوّفٌ رَّحِـيْـمٌ بِـسْـمِ الـلّٰـهِ الرَّحْـمٰـنِ الـرٌَحِـيْـمِ بِـسْـمِ الـلّٰـهِ وَبِـالـلّٰـهِ وَلَا حَـوْلَ وَلَا قُـوَّةَ إِلَّا بِـالـلَّـهِ الـعَـلـيُ الْـعَـظِـيْـمِ اُسْـكُـنٌ اَيُّـهَــا الْـوَجْـعُ بِـالـلّٰـهِ الَّـذِيْ يُـمْـسِـكُ الـسَّـمَـوَاتِ وَالْأَرْضَ أَن تَـزُولًا وَلَـئِـنُ زَالَـنَـا إِنْ أَمْـسَـكَـهُــمَـا مِـنْ أَحَـدٍ مِّـنْ بَــعْـدِهَٖ إِنَّـهُ كَـانَ حَـلِـيْـمًـا غَـفُـوْرٌا
وَصَـلَّـىٰ الـلّٰـهُ تَـعَـالَـى عَـلـىٰ خَـيْـرِ خَـلْـقِـهٖ مُـحَـمَّـدٍ وَآلِـًهٖ وَصَـحْـبِـهَ أَجْـمَـعِـيـنَ،

محترم کیا یہ صحیح ہے؟

جواب

ہماری معلومات کے مطابق یہ بس منسوب ہے اور اس کی کوئی سند دستیاب نہیں ہو رہی، واللہ اعلم۔
مزید شیخ ان شاء اللہ رہنمائی فراہم کریں گے۔
البتہ دعا کے الفاظ صحیح ہیں، اور اہل علم فرماتے ہیں کہ اگر اسے مسنون قرار نہ دیا جائے تو بھی دعا اختیار کی جا سکتی ہے۔

فضیلۃ الشیخ عبدالوکیل ناصر حفظہ اللہ