سوال (4682)

یوم عرفہ کے روزے کی فضیلت میں جو حدیث صحیح مسلم (1162) میں موجود ہے:

“صِیَامُ یَوْمِ عَرَفَةَ، أَحْتَسِبُ عَلَی اللّٰه أَنْ یُکَفِّرَ السَّنَةَ الَّتِي قَبْلَهُ، وَالسَّنَةَ الَّتِي بَعْدَهُ”

اس حدیث کی سند میں عبداللّٰہ بن معبد الزمانی کا ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے سماع ثابت نہیں، جیسا کہ امام بخاری رحمہ اللہ اور دیگر محدثین نے ذکر فرمایا، امام ابن عدی رحمہ اللہ نے بھی الکامل فی الضعفاء میں بخاری کا قول ذکر کر کے عرفہ والی روایت کا حوالہ دیا ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ بخاری رحمہ اللہ نے اسی روایت میں “ارسالِ خفی” کی علت بیان کی ہے۔
سوال یہ ہے کہ کیا اس علت (عدمِ سماع و ارسال خفی) کی وجہ سے اس حدیث کو ضعیف کہا جائے گا؟ یا دیگر شواہد و قرائن سے اس پر عمل کرنا درست ہوگا؟ اور کیا صحیح مسلم کی روایت ہونے کے باوجود، اس درجے کی علت پر اعتماد کرنا اصولِ محدثین کے مطابق ہے ؟ آپ حضرات کی قیمتی آراء و رہنمائی کی منتظر ہوں۔

جواب

اس پر فضیلۃ الشیخ غلام مصطفیٰ ظہیر امن پوری حفظہ اللہ کا تفصیلی مضمون ہے۔

فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ