سوال (2867)
اس حدیث کی وضاحت فرما دیں، جس میں ستر ہزار بندے بغیر حساب کے جنت میں جائیں گے ان کی صفات یہ ہونگی،
“هُمُ الَّذِينَ لَا يَرْقُونَ، وَلَا يَسْتَرْقُونَ، وَلَا يَتَطَيَّرُونَ، وَعَلَى رَبِّهِمْ يَتَوَكَّلُونَ”.[صحيح مسلم]
اس میں “لا یرقون” کی وضاحت مطلوب ہے؟
جواب
اہل علم کے ہاں “لا یرقون” کے الفاظ قابل قبول نہیں ہیں اہل کے نزدیک یہ الفاظ شاذ ہیں، باقی “لَا يَسْتَرْقُونَ” کے الفاظ صحیح قابل قبول ہیں، یہ فضیلت کی بات ہے، اس میں سختی نہیں کرنی چاہیے، اگر آپ کا عقیدہ درست ہے، تو اللہ تعالیٰ کے نیک لوگوں میں ان شاءاللہ شامل ہو سکتے ہیں، کوئی پریشانی والی بات نہیں ہے، اولی یہ ہے کہ آپ کسی سے اپیل نہ کریں، اس لیے شریعت نے دونوں پہلو رکھے ہیں، بوقت ضرورت آپ اپیل کر سکتے ہیں، کتاب و سنت کے رقیہ سے ان شاءاللہ آپ ستر ہزار لوگوں سے محروم نہیں ہونگے، بعض علماء کے نزدیک رقیہ سے دور جاہلیت کا رقیہ مراد ہے۔
فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ




