سوال (4737)
میں ایک بات سمجھنا چاہتا ہوں اور اہل علم سے رہنمائی درکار ہے۔
مشہور حدیث ہے:
“من قرأ حرفاً من كتاب الله فله به حسنة، والحسنة بعشر أمثالها، لا أقول: (الم) حرف، ولكن ألف حرف، ولام حرف، وميم حرف.” (جامع الترمذی: 2910، وقال: حديث حسن صحيح)
اس حدیث میں نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ:
“قرآن کا ہر حرف پڑھنے پر دس نیکیاں ملتی ہیں۔”
اب میرا سوال یہ ہے:
1. یہ حدیث نبی کریم ﷺ کا قول ہے یا کسی صحابی کا قول؟
2. کیا یہ حدیث شرعی حجت ہے؟ یعنی کیا ہم اس پر فضیلت و اجر کا عقیدہ رکھ سکتے ہیں؟
3. اگر کوئی یہ کہے کہ “یہ صرف ابن مسعودؓ کا قول ہے، اس لیے حجت نہیں” — تو اس کا جواب اہل سنت کے اصولوں کے مطابق کیا ہوگا؟
4. امام ترمذی نے اسے “حسن صحیح” کہا ہے، تو کیا اس سے اس کی حجیت اور درجہ ثبوت ثابت ہوتا ہے؟
برائے کرم دلائل اور اصولی وضاحت کے ساتھ رہنمائی فرمائیں، تاکہ تشفی ہو اور بات دوسرے ساتھیوں کو بھی صحیح پہنچ سکے۔
جواب
ایسے کئی دلائل ہیں کہ جس میں ایک نیکی کے عوض دس نیکیاں، دس نیکیوں سے سات سو نیکیاں اور اس سے بڑھ کر بشارت دی گئی ہے، اس بنا پر
“من قرأ حرفاً من كتاب الله فله به حسنة، والحسنة بعشر أمثالها، لا أقول: (الم) حرف، ولكن ألف حرف، ولام حرف، وميم حرف.”
اس حدیث کو ہم قبول کریں گے، ادلہ موجود ہیں، اگر یہ روایت کسی کی تحقیق میں موقوف ہے تو موقوف ہونے کے بعد مرفوع حکمی ہے، یہ محدثین کے ہاں کچھ روایات بظاہر موقوف ہیں، لیکن حکماً مرفوع ہیں، اس روایت پر مرفوع کا حکم لگے گا۔
فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ




