تئیس سالہ مصطفی کو دوست نے بدردی سے قتل کر دیا

تئیس سالہ مصطفی۔۔۔ جسے دوست نے درندگی کے ایسے طریقے سے قتل کیا کہ روح بھی تھرا اٹھے، اب اس کی والدہ کا انٹرویو سامنے آ گیا ہے، مصطفی کو اس کے دوست نے خوفناک ترین تشدد کر کے قتل کیا، یہ تشدد کئی گھنٹوں پر محیط تھا،اس تشدد میں کسی ہارر مووی کی طرح کے ہولناک انداز اپنائے گئے، راڈ سے اس کے سر کو توڑ پھوڑ ڈالا گیا، تشدد کے دوران سکے سے ٹاس بھی کی جاتی رہی کہ اگر ہیڈ اور ٹیل میں سے فلاں آیا تو تشدد ہوگا، اور فلاں آیا تو تشدد نہیں ہوگا، اس تشدد کو تفریح بنایا گیا، اس سے لطف لیا گیا۔ کسی چلتی ہوئی قسط کی طرح منصوبہ بندی سے تشدد جاری رہا، جب اس کے دوست ارمغان کا جی بھر گیا اور مصطفی ادھ موا ہوگیا تو اسے گاڑی میں ڈال کے بلوچستان میں حب کے کسی علاقے میں لے جا کر اس جوان کو زندہ جلا دیا گیا۔ وہ اتنا بے بس لاشہ ہو چکا تھا کہ مزاحمت بھی نہ کر سکا۔
یہ سب اس کے گہرے دوست نے کیا، جو منشیات کا عادی تھا، معلوم نہیں یہاں معاملہ منشیات کا تھا، اس لڑکی کا تھا، جو ملک سے فرار ہوچکی یا منشیات فروشی کے کسی لین دین کا تھا، تفتیش لیکن آگے بڑھی تو پتہ چلا یہ دوست کے ہاتھوں دوست کے سفاکانہ قتل سے کہیں بڑا معاملہ ہے، پتہ چلا اس میں ایک تیسرا کردار بھی ہے،اداکار ساجد حسن کا بیٹا ساحر حسن، جو اتنا بڑا ڈرگ ڈیلر یا منشیات فروش ہے کہ پناہ بخدا، کوئی پچاس کروڑ وہ ڈرگ سے کما چکا، امریکی ریاست کیلیفورنیا سے وہ ایک قسم کی منشیات سمگل کرتا تھا، سنیپ چیٹ ،واٹس ایپ اور دوسرے سوشل میڈیا کے ذریعے وہ منشیات مختلف تعلیمی اداروں یا دوسرے بچوں کو بیچتا تھا، دو کورئیر کمپنیاں اس کا مال بڑی آسانی سے طلبگاروں تک پہنچاتی تھیں، اداکار سجاد حسن کا مینجر روپے وصول کرتا تھا اور بڑے آرام سے یہ گھناؤنا دھندہ پوری آزادی سے جاری تھا۔
یہاں ایک کردار ارمغان کے والد کا ہے، وہ کبھی اپنے منشیات فروش اور درندہ صفت قاتل بیٹے کو ہیرو بناتا ہے، کبھی وہ بتاتا ہے کہ اسلام میں نشہ حرام نہیں،بس بہکنا حرام ہے،اس کا بیٹا، ایک لمحے کو بھی اپنے کئے پر شرمندہ نہیں ہوتا، اس کا باپ بھی نہیں ہوتا، وہ ایسے سفاکانہ قتل پر گرفتار ہوکر بھی یوں پوز بناتا اور ایسے تیور دکھاتا ہے گویا نیلسن منڈیلا سے کوئی بڑا کارنامہ کر چکا ہے۔
اب مقتول مصطفی کی والدہ کا انٹرویو سامنے آتا ہے، وہ ایسی روانی سے بیٹے کے متعلق بتاتی ہیں، جیسے وہ کارگل کا ہیرو ہو، ہمیں ایک ایسی ماں کے ساتھ ہمدردی ہونی چاہئے، جس کا جوان بیٹا ایسی اندھی موت کا شکار ہوگیا، مگر یہاں ماں ہمیں بیٹے کی ان تمام سرگرمیوں کو ڈیفینڈ کرتے ملتی ہے، جس نے بیٹے کو ایسے دلدوز انجام سے دوچار کیا، وہ اس کی ہمدردی اور انسان دوستی کی بات کرتی ہیں،تاہم بغیر نمبر پلیٹ کے گاڑی چلانے، ہر عمر کے لوگوں کیساتھ لا محدود دوستیاں لگانے ، بغیر نمبر پلیٹ والی گاڑی کو موت کے تعاقب میں اندھا دھند دوڑنے، منشیات کی پارٹیوں میں شریک ہونے پر بھی افسردہ یا نادم نہیں ہوتیں۔ وہ اسے جوانی کی مستی قرار دیتی ہیں۔
یہاں ہمیں کوئی بھی نادم نہیں ملتا، کوئی بھی افسردہ نہیں ملتا، سوائے ان لوگوں کے جو عام لوگ یہ کہانی سن رہے ہیں،وہ ان بچوں کے ایسے بے سمت راستوں اور عبرت انجام سرگرمیوں پر پریشان ہیں،وہ ان کی لاقانونیت والی زندگی پر پریشان ہیں،وہ اتنے بڑے منشیات فروشی کے مافیا کے اس آسانی سے فعال رہنے پر پریشان ہیں، وہ ایلیٹ کلاس اور اشرافیہ کی ایسی بے سمت اور بے ثمر زندگی اور زندگی کے ایسے انجام اور ایسی بے حسی پر پریشان ہیں۔
میرے نزدیک اس حادثے کا اصل قابل توجہ اور قابل افسوس پہلو ان تمام کرداروں کے لفظ لفظ اور انگ انگ سے پھوٹتی بے حسی اور بے شرمی ہے۔ جو ہمیں بتاتی ہے کہ ان کے ہاں اپنی جانوروں کی طرح کی آزاد زندگی کیلئے بچوں کا سفاکانہ قاتل اور مقتول بننا، منشیات میں ڈوب کر جوانی کی خرمستیاں کرنا، ملکی اور اخلاقی قوانین کی دھجیاں بکھیر دینا اور نئی نسل کی رگوں میں منشیات کا زہر انڈیل دینا، یہ سب نارمل ہے۔
یہ بہت افسوسناک بلکہ بہت الارمنگ ہے، سوال یہ بھی ہے کہ یہ بچے صرف اشرافیہ کے نہیں، یہ اس ملک اور قوم کے بھی بچے ہیں، لیکن یہ بچے اب کہیں نور مقدم کی شکل میں،کہیں شاہ رخ جتوئی کی شکل میں، کہیں ساحر حسن ، ارمغان اور طاہر مصطفی کی شکل میں ایک نئی دنیا تشکیل دے رہے ہیں۔ سفاکی، لاقانونیت ،منشیات اور بے رحم حیوانی آزادی کی دنیا، جہاں نہ کوئی قانون ہے اور نہ کوئی اخلاق۔ جہاں افسر والدین کی طاقت کا غیر انسانی اظہار ہے، جہاں حرام کے پیسے کی حرامخور جبلت ہے اور جہاں یا تو نشے میں ڈوبے زندہ لاشے ہیں یا پھر زندہ جلائے جاتے تڑپتے لاشے اور جہاں اس سب پر قانع بلکہ فخر کرتے مطمئن کردار ہیں۔
اس سب پر قوم اور ملک نے کیا سوچنا ہے؟
اس پر اشرافیہ نے کیا سوچنا ہے؟
اس پر معاشرے نے کیا سوچنا ہے؟
اس پر قانون اور اخلاق نے کیا سوچناہے؟
یہ مجھے معلوم نہیں، ہوسکتاہے آپ کو کچھ معلوم ہو!
آپ کو کچھ معلوم ہو تو مجھے بھی ضرور بتائیے گا۔
میں ایسی خبریں پڑھنے اور سننے سے رکنا چاہتا ہوں,
کیونکہ ان سے میرا دل رکتا ہے،ویسے تو اس سے کسی بھی معاشرے اور قانون کا دل رکنا چاہئے۔

#یوسف_سراج

یہ بھی پڑھیں: ایک قابل رشک رخصتی