تئیسویں رات کا اہتمام
⇚ضمرہ بن عبد اللہ بن انیس جہنی رحمہ اللہ اپنے والد سیدنا عبد اللہ بن انیس رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے ہیں کہ ’’میں نے عرض کی اے اللہ کے رسول! میں دیہات میں رہتا ہوں اور بحمد للہ وہیں نماز پڑھتا ہوں۔ تو آپ مجھے کسی رات (لیلۃ القدر) کے متعلق ارشاد فرما دیں کہ اس رات میں یہاں اس مسجد میں آ جاؤں۔ آپ ﷺ نے فرمایا:
«اِنْزِلْ لَيْلَةَ ثَلَاثٍ وَعِشْرِينَ».
’’تیئیسویں کی رات کو آ جانا۔‘‘
راوی بیان کرتے ہیں کہ میں نے ان کے بیٹے (عبد اللہ) سے پوچھا: تو تمہارے والد کیسے کیا کرتے تھے؟ انہوں نے کہا: وہ عصر پڑھ کر مسجد نبوی میں داخل ہو جایا کرتے تھے اور کسی حاجت کے لیے باہر نہ نکلتے تھے، حتیٰ کہ صبح کی نماز پڑھ لیتے۔ پھر نماز صبح کے بعد اپنی سواری مسجد کے دروازے پر پاتے تھے، اس پر بیٹھتے اور اپنے دیہات چلے آتے۔‘‘ (سنن أبي داود: ١٣٨٠)
اہلِ مدینہ کے ہاں یہ رات اسی صحابی کی مناسبت سے ’’لیلۃ الجہنی‘‘ کے نام سے معروف تھی، اور اس رات کا خاص اہتمام کیا جاتا تھا، لوگ گھروں سے بالخصوص قیام اللیل کے لیے مسجد نبوی ﷺ پہنچا کرتے تھے۔ (الطبقات لابن سعد: ٤/ ٤٠٠، التمهيد لابن عبد البر :١٣/ ٤٢٦)
⇚سیدنا عبد اللہ بن انیس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
«أُرِيتُ لَيْلَةَ الْقَدْرِ، ثُمَّ أُنْسِيتُهَا وَأُرَانِي صُبْحَهَا أَسْجُدُ فِي مَاءٍ وَطِينٍ».
’’مجھے شب قدر دکھائی گئی پھر مجھے بھلا دی گئی۔ اس کی صبح میں اپنے آپ کو دیکھتا ہوں کہ پانی اور مٹی میں سجدہ کر رہا ہوں۔‘‘
قَالَ: فَمُطِرْنَا لَيْلَةَ ثَلَاثٍ وَعِشْرِينَ فَصَلَّى بِنَا رَسُولُ اللهِ ﷺ، فَانْصَرَفَ، وَإِنَّ أَثَرَ الْمَاءِ وَالطِّينِ عَلَى جَبْهَتِهِ وَأَنْفِهِ. قَالَ: وَكَانَ عَبْدُ اللهِ بْنُ أُنَيْسٍ يَقُولُ: ثَلَاثٍ وَعِشْرِينَ.
راوی بیان کرتے ہیں: تیئسویں رات ہم پر بارش ہوئی۔ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں نماز پڑھائی پھر آپ نے سلام پھیرا تو آپ کی پیشانی اور ناک پر پانی اور مٹی کے نشانات تھے، عبد اللہ بن انیس رضی اللہ عنہ کہا کرتے تھے (لیلۃالقدر) تیئیسویں ہے۔‘‘
(صحیح مسلم : ١١٦٨)
⇚ عبید اللہ بن یزید رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں:
«رَأَيْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ يَرُشُّ عَلَى أَهْلِهِ الْمَاءَ لَيْلَةَ ثَلَاثٍ وَعِشْرِينَ».
’’میں نے سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کو دیکھا کہ وہ تئیسویں رات کو اپنے گھر والوں (کو جگانے کے لیے) ان پر پانی چھڑکتے تھے۔‘‘
(المصنف لابن أبي شيبة: ٢/٣٢٦، العلل لأحمد: ٢٨٨٠ وسنده صحیح)
⇚ اسود بن یزید بیان کرتے ہیں:
«أَنَّ عَائِشَةَ كَانَتْ تُوقِظُ أَهْلَهَا لَيْلَةَ ثَلَاثٍ وَعِشْرِينَ».
’’سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا تئیسویں رات اپنے گھر والوں کو بیدار کیا کرتی تھیں۔‘‘
(من أحاديث سفيان الثوري: ١٤٥، المصنف لابن أبي شيبة : ٢/٣٢٦ واللفظ له، صحیح)
… حافظ محمد طاھر حفظہ اللہ
(المدينة المنورة، ليلة ٢٣ رمضان ١٤٤٦هـ)



