سوال (5466)
عالم ارواح میں اللہ تعالیٰ نے جو عہد لیا ہے وہ ہمیں کیوں یاد نہیں ہے، اور عہد لینے کے باوجود دنیا میں اتنے مذہب کیوں وجود میں آئے ہیں، حالانکہ اسلام سچا مذہب ہے؟
جواب
کسی بہن نے قرآن میں ذکر کردہ الست بربکم والے عہد کے متعلق دو سوال کیے ہیں پہلا یہ کہ ہم سے جوعہد لے لیا گیا تھا وہ ہم کو یاد کیوں نہیں ہے دوسرا یہ کہ جب ہم نے عہد کر لیا تھا تو پھر یہ اتنے زیادہ اختلاف کیوں ہوتے ہیں۔
پہلے سوال کا جواب یہ ہے کہ یہ اللہ کی حکمت ہے جو اسکے سوا کوئی نہیں جانتا ہم اپنی ناقص عقل سے صرف اندازے لگا سکتے ہیں مثلا الذی خلق الموت والحیوۃ لیبلوکم ایکم احسن عملا کے تحت یہ دنیا امتحان ہے اور جس امتحان میں کامیابی کا انعام جتنا بڑا ہوتا ہے اتنا ہی وہ زیادہ پیچیدہ اور مشکل ہوتا ہے اور سب سے بڑی کامیابی تو جنت کا حصول ہے تو اسکا امتحان تو زیادہ مشکل ہونا چاہئے۔ اب امتحان کے مشکل ہونے کا انحصار مندرجہ ذیل دو چیزوں پہ ہوتا ہے۔
1۔ پہلی یہ کہ اس میں ہمارے نفس کے خلاف کتنا کام ہے مثلا تاش کھیل کر جیتنا آسان امتحان ہو سکتا ہے اور فجر کے اٹھنا مشکل ہو گا۔ اسی لئے شاعر کہتا ہے فرشتہ سے بہتر ہے انسان بننا مگر اس میں لگتی ہے محنت زیادہ کیونکہ فرشتے کے ساتھ خواہشات نہیں ہیں تواسکے لئے عمل کرنا بہت آسان ہے۔
2۔ اسکے بعد جس امتحان میں جتنی بھول بھلیاں ہوں گی یعنی گھما پھرا کر بات کی جائے گی وہ مشکل ہو گا جو سادہ سادہ سوال ہوں گے وہ آسان ہو گا۔ چنانچہ او لیول، اے لیول کا امتحان مشکل جبکہ میٹرک، ایف ایس سی کا آسان ہوتا ہے اسی طرح سی ایس ایس کا یا چارٹرڈ اکاونٹینٹ کا یا انجینیئر وغیرہ کا مشکل ہوتا ہے پس اگر اللہ نے سب سے بڑا انعام جنت دینا تھا تو پھر اللہ کے رب ہونے کا عہد ہمیں یاد رکھوایا جاتا تو یہ امتحان بہت آسان تھا اسکی نسبت اللہ نے وہ عہد یاد رکھوانے کی بجائے ہماری فطرت میں ڈال دیا جیسا کہ بخاری کی حدیث ہے کل مولود یولد علی الفطرۃ فابواہ یھودانہ وینصرانہ ویمجسانہ کہ ہر بچہ فرطت یعنی اس الست بربکم والے عہد پہ ہی پیدا ہوتا ہے لیکن اس کا ماحول اسکے والدین اسکو پھر مختلف راستوں پہ لگا دیتے ہیں اور یہی پیچیدگیاں پہ تو امتحان کو مشکل بنا سکتی تھیں پس ہمیں سی ایس ایس کے امتحان میں ایسے مشکل سوالوں کے آنے پہ کوئی اعتراض نہیں ہوتا کیونکہ انعام بڑا ہوتا ہے لیکن یہاں پہ یہ اعتراض کیوں؟
دوسرے سوال کا جواب پہلے سوال سے ہی مل جائے گا کہ جب اللہ نے پیچیدگیاں رکھ دیں تو اب پاس ہونا بھی آسان تو نہیں ہوتا اسی لئے تو اللہ نے کہا کہ والذین جاهدوا فینا لنهدینهم سبلنا، کہ جو کوشش کرتا ہے تو اسکو سیدھا راستہ ملنا مشکل نہیں ہوتا جیسے سی ایس ایس میں جو کوشش کرتا ہے اسکو کامیاب ہونا مشکل نہیں ہوتا لیکن اس میں بھی اکثریت فیل ہو جاتی ہے تو کیا وہاں ہم کہتے ہیں کہ یہ کیسا امتحان بنایا ہے کہ زیادہ تر کو فیل کر دیا ہے پس ہم اللہ پہ یہ اعتراض کیسے کر سکتے ہیں کہ یہ کیسا امتحان بنایا ہے کہ اکثر لوگ آپس میں اختلاف کرنے لگ جاتے ہیں اور اللہ کی رسی کو چھوڑ دیتے ہیں۔ ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب
فضیلۃ العالم ارشد حفظہ اللہ




