سوال     6645

کیا اسلام میں غازی کی فضیلت زیادہ ہے یا عالم کی؟
اور جس جہاد پر احادیثِ فضیلت وارد ہوئی ہیں، کیا آج کے دور کے جہاد (مثلاً کشمیر وغیرہ) پر وہی احادیث منطبق ہوتی ہیں؟
اگر ایک طرف غیر عالم غازی ہو اور دوسری طرف باعمل و مستند عالم، تو فضیلت کس کی ہے؟

جواب

وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
آپ کے سوال میں ایک واضح پس منظر محسوس ہوتا ہے، اور اصولی بات یہ ہے کہ ایسے سوالات جن کا تعلق کسی خاص حالات، افراد یا مقامی صورتِ حال سے ہو، ان میں بہتر یہی ہوتا ہے کہ تمام پس منظر بیان کر کے کسی مقامی معتبر عالم یا اہلِ علم سے براہِ راست رہنمائی لی جائے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ بعض اوقات سوال ظاہراً کچھ اور ہوتا ہے، جبکہ اصل مسئلہ پس منظر کے ساتھ مختلف نکلتا ہے، اور پس منظر کو نظرانداز کرنے سے کئی شرعی خرابیاں لازم آ سکتی ہیں۔ واللہ تعالیٰ اعلم۔
البتہ اگر سوال کو سادہ اور عمومی طور پر لیا جائے، تو جہاد وہی ہے جو اعلاءِ کلمۃ اللہ، مظلوم مسلمانوں کی نصرت اور شریعت کے مقرر کردہ مقاصد میں سے کسی مقصد کو پورا کرتا ہو۔ ایسا جہاد اگر کشمیر میں ہو، فلسطین میں ہو یا کسی اور مقام پر، تو ان شاء اللہ وہ شرعی جہاد کے زمرے میں آئے گا۔
بشرطیکہ اس میں یہ مفاسد نہ پائے جائیں کہ مسلمانوں پر ظلم کیا جائے، ان کے خلاف ہتھیار اٹھائے جائیں، یا مسلمانوں ہی کے خلاف اعلانِ جہاد کر کے زمین میں فساد فی الارض برپا کیا جائے۔ اگر یہ قباحتیں موجود نہ ہوں، تو امید ہے کہ وہ عمل شریعت کے دائرے میں شمار ہوگا۔
دوسری بات غازی اور عالم کے تقابل سے متعلق ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اس مسئلے میں تقابل سے احتراز ہی درست اور معتدل رویہ ہے۔ غازی کا اللہ کی راہ میں نکلنا اور غزوہ میں شرکت کرنا یقیناً عظیم عمل ہے۔ اسی طرح نمازی کی نماز عظیم عمل ہے، حاجی کا حج عظیم عبادت ہے، اور عالم کا علم تو ایک نہایت اعلیٰ مقام رکھتا ہے، کیونکہ وہ نبوت کی وراثت ہے۔
اس لیے کسی ایک عمل کو بنیاد بنا کر دوسرے کی تنقیص کرنا درست نہیں۔ اہلِ علم کا اپنا مقام اور شان ہے، جس کا کسی اور سے تقابل نہیں کیا جانا چاہیے، اور اس کا ہرگز یہ مطلب بھی نہیں کہ غازی کے عمل کو کم تر یا بے حیثیت سمجھ لیا جائے۔
اعتدال کا تقاضا یہی ہے کہ دونوں کی قدر کی جائے۔ غازی نے اللہ کے لیے جان کو خطرے میں ڈالا، اور عالم نے اللہ کے دین کو سمجھا، سیکھا اور آگے پہنچانے کی جدوجہد کی۔ دونوں کی نیتوں کا حقیقی حال اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے، اور امید یہی ہے کہ دونوں اللہ کے ہاں اجر کے مستحق ہیں۔
البتہ کسی شخص کی علمی کمی یا جہالت کو بنیاد بنا کر اس کی پوری زندگی کو ایک عالم کی زندگی پر فوقیت دینا اور اس کے نتیجے میں اہلِ علم کی تنقیص کرنا، یہ طرزِ فکر نہایت نامناسب اور غلط ہے۔ اسی طرح اعمال کا باہمی تقابل بھی اکثر بگاڑ، نزاع اور دلوں میں دوری کا سبب بنتا ہے، اور یہی رویہ معاشرے میں اختلافات اور جماعتوں کے افتراق کو جنم دیتا ہے۔
لہذا بہتر یہی ہے کہ تنقیص سے بچا جائے، تقابل نہ کیا جائے، اور ہر نیکی والے عمل کی قدر کی جائے۔ واللہ اعلم

فضیلۃ العالم حافظ علی عبد اللہ حفظہ اللہ