سوال (6616)

السلام علیکم ورحمۃاللہ وبرکاتہ
معزز علماء کرام رہنمائی فرمائیں۔ ایک آدمی اپنی جنس گندم ، باجرہ وغیرہ آڑھتی کے پاس رکھتا ہے کہ جب ریٹ بڑھے گا یا مجھے ضرورت پڑے گی میں کل کی یا کچھ کی قیمت لے لوں گا، جنس رکھنے پر آڑھتی معاوضہ بھی لیتا ہے، لیکن وہ (آڑھتی) جنس کو ( اکثر دیکھا ہے ) فروخت کر دیتا ہے اور جس کی جنس تھی اس کو اسی طریقے سے ادائیگی کرتا ہے جو پہلے مذکور ہے۔ کیا ایسا کرنا شرعاً درست ہے؟

جواب

وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
بظاہر اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔ سامان مالک کا ہی ہے اور وہ اسے کسی کے پاس رکھوا رہا ہے۔ رکھنے کے وقت اس نے کرایہ بھی دیا ہے اور کمیشن ایجنٹ مقرر کیا ہے جو اپنے حساب سے سامان بھیجتا رہتا ہے اور نفع مالک کو دیتا رہتا ہے۔

فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ