سوال (4885)

“صِيَامُ يَوْمِ عَرَفَةَ إِنِّي أَحْتَسِبُ عَلَى اللَّهِ أَنْ يُكَفِّرَ السَّنَةَ الَّتِي قَبْلَهُ وَالسَّنَةَ الَّتِي بَعْدَهُ”

کیا یہ حدیث صحیح ہے؟

جواب

اس حدیث کو بالجزم امام مسلم نے اپنی الصحیح میں ذکر کیا جو اس بات کی دلیل ہے کہ امام صاحب کے استقراء کے مطابق یہ روایت صحیح السماع ہے۔
امام ترمذی نے کہا:

ﺣﺪﻳﺚ ﺃﺑﻲ ﻗﺘﺎﺩﺓ ﺣﺪﻳﺚ ﺣﺴﻦ، ﻭﻗﺪ اﺳﺘﺤﺐ ﺃﻫﻞ اﻟﻌﻠﻢ ﺻﻴﺎﻡ ﻳﻮﻡ ﻋﺮﻓﺔ سنن ترمذی:(749)

امام احمد بن حنبل فرماتے ہیں:

ﺃﻣﺎ ﻋﺎﺷﻮﺭاء ﻭﻋﺮﻓﺔ، ﺃﻋﺠﺐ ﺇﻟﻲ ﺃﻥ ﺃﺻﻮمهما ﻟﻔﻀﻴﻠﺘﻬﻤﺎ ﻓﻲ ﺣﺪﻳﺚ ﺃﺑﻲ ﻗﺘﺎﺩﺓ
مسائل الإمام أحمد وإسحاق بن راهويه:/ 1251،1252

امام نسائی نے کہا:

ﻫﺬا ﺃﺟﻮﺩ ﺣﺪﻳﺚ ﻋﻨﺪﻱ ﻓﻲ ﻫﺬا اﻟﺒﺎﺏ، ﻭاﻟﻠﻪ ﺃﻋﻠﻢ السنن الكبرى للنسائي:(2826)

امام ابن خزیمہ اس حدیث کو اپنی الصحیح:(2087) میں لائے ہیں اور کوئی علل خفی کا اشارہ نہیں دیا ہے۔
امام أبو عوانہ اس حدیث کو مستخرج أبی عوانہ:(2924 ،2949) میں لاے ہیں۔
امام ابن حبان اس حدیث کو اپنی الصحیح:(3631 ،3632) میں لاے ہیں۔

امام حاکم نے کہا:

ﺇﻧﻤﺎ اﺣﺘﺞ ﻣﺴﻠﻢ ﺑﺤﺪﻳﺚ ﺷﻌﺒﺔ ﻋﻦ ﻗﺘﺎﺩﺓ ﺑﻬﺬا اﻹﺳﻨﺎﺩ، مستدرک حاکم:(4179)

امام بیھقی نے کہا:

ﻭﺃﺻﺢ اﻟﺮﻭاﻳﺎﺕ ﻓﻴﻪ ﺭﻭاﻳﺔ ﻋﺒﺪ اﻟﻠﻪ ﺑﻦ ﻣﻌﺒﺪ اﻟﺰﻣﺎﻧﻲ، ﻋﻦ ﺃﺑﻲ ﻗﺘﺎﺩﺓ ﻛﻤﺎ ﻣﻀﻰ
شعب الایمان:(3504)

امام بغوی نے کہا:

ﻭﻫﺬا ﺣﺪﻳﺚ ﺻﺤﻴﺢ، ﺃﺧﺮﺟﻪ ﻣﺴﻠﻢ، ﻋﻦ ﻣﺤﻤﺪ ﺑﻦ ﻣﺜﻨﻰ، ﻋﻦ ﻣﺤﻤﺪ ﺑﻦ ﺟﻌﻔﺮ، ﻋﻦ ﺷﻌﺒﺔ
شرح السنة للبغوي:6/ 343(1789)

حافظ ابن عساکر نے
ﻋﺒﺪ اﻟﻠﻪ ﺑﻦ ﻣﻌﺒﺪ اﻟﺰﻣﺎﻧﻲ ﻋﻦ ﺃﺑﻲ ﻗﺘﺎﺩﺓ کے طریق سے اس روایت کو نقل کرنے کے بعد کہا:
ﻫﺬا ﺣﺪﻳﺚ ﺣﺴﻦ ﺻﺤﻴﺢ ﻏﺮﻳﺐ، معجم ابن عساکر:(931) 2/ 747
ﺟﺰء ﻓﻴﻪ ﻓﻀﻞ ﻳﻮﻡ اﻟﺘﺮﻭﻳﺔ ﻭﻋﺮﻓﺔ:(11) میں اس حدیث کے بعد ہے
ﻫﺬا ﺣﺪﻳﺚ ﺻﺤﻴﺢ ﺃﺧﺮﺟﻪ ﻣﺴﻠﻢ

ﻗﺎﻝ اﻟﻤﻨﺬﺭﻱ:
ﻫﺬا اﻟﺤﺪﻳﺚ ﺻﺤﻴﺢ اﻧﻔﺮﺩ ﺑﻪ ﻣﺴﻠﻢ ﻓﺮﻭاﻩ ﻓﻲ ﺻﺤﻴﺤﻪ ﻣﻄﻮﻻ۔۔۔۔۔۔
اﻷﻣﺎﻟﻲ ﻟﻠﺴﻴﺪ ﻣﺮﺗﻀﻰ اﻟﺰﺑﻴﺪﻱ:ص:12 ،15

امام ابن عبدالبر نے کہا:
ﻭﻫﺬا ﺇﺳﻨﺎﺩ ﺣﺴﻦ ﺻﺤﻴﺢ
التمھید لابن عبدالبر:21/ 162
ﻗﺎﻝ اﺑﻦ ﻋﺒﺪ اﻟﺒﺮ:
ﻫﺬا ﺇﺳﻨﺎﺩ ﺻﺤﻴﺢ.
إتحاف المهرة لابن حجر:4/ 145

امام عقیلی نے کہا:

ﺃﺣﺎﺩﻳﺚ ﺛﺎﺑﺘﺔ اﻷﺳﺎﻧﻴﺪ، الضعفاء الكبير للعقيلى:2/ 305

امام دارقطنی نے اس روایت پر عدم اتصال کے حوالے سے کوئی کلام نہیں کیا ہے بلکہ جن معروف طرق سے مروی ہے اسے صواب قرار دیا ہے۔العلل للدارقطني :(1035)
ایسے ہی میرے علم کے مطابق امام صاحب سے اس طریق مسلم پر کلام ثابت نہیں ہے

ﻭﺃﻣﺎ ﺳﻤﺎﻉ ﻋﺒﺪ اﻟﻠﻪ ﺑﻦ ﻣﻌﺒﺪ ﻣﻦ ﺃﺑﻲ ﻗﺘﺎﺩﺓ فعبد الله ﺛﻘﺔ ﻭاﻟﺜﻘﺎﺕ ﻣﻘﺒﻮﻟﻮﻥ ﻻ ﻳﺤﻞ ﺭﺩ ﺭﻭاﻳﺎﺗﻬﻢ ﺑﺎﻟﻈﻨﻮﻥ ﻭ بالله ﺗﻌﺎﻟﻰ اﻟﺘﻮﻓﻴﻖ، المحلى لابن حزم:4/ 440

ﻏﻴﻼﻥ ﺑﻦ ﺟﺮﻳﺮ عن عبد الله بن معبد عن أبي قتادة کے طریق سے روایت امام محمد بن جریر الطبری کے نزدیک صحیح ہے۔ تاریخ الطبری:2/ 293
الشیخ ﺧﺎﻟﺪ ﻣﻨﺼﻮﺭ ﻋﺒﺪ اﻟﻠﻪ اﻟﺪﺭﻳﺲ
لکھتے ہیں:

ﻭﺇﻻ ﻓﻘﺪ اﺣﺘﺞ ﻣﺴﻠﻢ ﺑﻋﺒﺪ اﻟﻠﻪ ﺑﻦ ﻣﻌﺒﺪ ﻋﻦ ﺃﺑﻲ ﻗﺘﺎﺩﺓ ﻭﻣﻘﺘﻀﻰ ﺫﻟﻚ ﺃﻥ ﻳﻜﻮﻥ اﻹﻣﺎﻡ ﻣﺴﻠﻢ ﻗﺪ ﻋﻠﻢ ﻣﻌﺎﺻﺮﺗﻪ ﻷﺑﻲ ﻗﺘﺎﺩﺓ
ﻣﻮﻗﻒ اﻹﻣﺎﻣﻴﻦ اﻟﺒﺨﺎﺭﻱ ﻭﻣﺴﻠﻢ ﻣﻦ اﺷﺘﺮاﻁ اﻟﻠﻘﻴﺎ ﻭاﻟﺴﻤﺎﻉ ﻓﻲ اﻟﺴﻨﺪ اﻟﻤﻌﻨﻌﻦ ﺑﻴﻦ اﻟﻤﺘﻌﺎﺻﺮﻳﻦ:ص:229

الشیخ خالد الدریس مزید لکھتے ہیں ۔

ﻭﻳﻈﻬﺮ ﺃﻥ ﻣﺴﻠﻤﺎ ﺭﺣﻤﻪ اﻟﻠﻪ ﺃﺧﺮﺝ ﻫﺬا اﻟﺤﺪﻳﺚ ﻓﻲ ﺻﺤﻴﺤﻪ ﻷﻥ ﻋﺪﺩا ﻣﻦ ﺃﺋﻤﺔ اﻟﺤﺪﻳﺚ ﺭﻭﻭﻩ ﻭﻟﻢ ﻳﺴﺘﻨﻜﺮﻭﻩ ﻛﺸﻌﺒﺔ ﻭﺣﻤﺎﺩ ﺑﻦ ﺯﻳﺪ ﻭﻋﺒﺪ اﻟﺮﺣﻤﻦ ﺑﻦ ﻣﻬﺪﻱ، ﺛﻢ ﻷﻥ اﻟﺤﺪﻳﺚ ﻓﻲ ﻓﻀﺎﺋﻞ اﻷﻋﻤﺎﻝ.
ﻣﻮﻗﻒ اﻹﻣﺎﻣﻴﻦ اﻟﺒﺨﺎﺭﻱ ﻭﻣﺴﻠﻢ ﻣﻦ اﺷﺘﺮاﻁ اﻟﻠﻘﻴﺎ ﻭاﻟﺴﻤﺎﻉ ﻓﻲ اﻟﺴﻨﺪ اﻟﻤﻌﻨﻌﻦ ﺑﻴﻦ اﻟﻤﺘﻌﺎﺻﺮﻳﻦ:ص:458

امام خطیب بغدادی نے جزم کے ساتھ کہا:

ﻭﻋﺒﺪ اﻟﻠﻪ ﺑﻦ ﻣﻌﺒﺪ اﻟﺰﻣﺎﻧﻲ اﻟﺒﺼﺮﻱ
ﺳﻤﻊ ﺃﺑﺎ ﻗﺘﺎﺩﺓ اﻷﻧﺼﺎﺭﻱ ﺭﻭﻯ ﻋﻨﻪ ﻗﺘﺎﺩﺓ ﺑﻦ ﺩﻋﺎﻣﺔ ﻭﻏﻴﻼﻥ ﺑﻦ ﺟﺮﻳﺮ.
المتفق والمفترق للخطيب:3/؛1441(746)

پھر حدیث أبی قتادہ ﺻﻮﻡ ﻳﻮﻡ ﻋﺮﻓﺔ ﻳﻜﻔﺮ اﻟﺴﻨﺔ ﻭﻣﺎ ﻗﺒﻠﻬﺎ بیان کی
تو یہ حدیث بے غبار اور صحیح متصل السند ہے ائمہ محدثین کی ایک جماعت نے اسے صحیح وأجود وحسن قرار دیا ہے اور کسی نے عبد الله بن معبد الزماني عن أبي قتادة کے سماع پر کلام نہیں کیا یا اڈے علت نہیں بنایا ہے بلکہ انہوں نے تو صحت کا حکم لگا کر سند کے صحیح ومتصل ہونے کی مہر ثبت کر دی ہے ۔
یہ یوم عرفہ کا روزہ رکھنا اور نہ رکھنا سلف صالحین سے دونوں صورتیں ملتی ہیں ۔
أم المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی الله عنہا یوم عرفہ کے روزے کے بارے میں فرماتی ہیں ۔

ﻣﺎ ﻣﻦ اﻟﺴﻨﺔ ﻳﻮﻡ ﺃﺻﻮمه ﺃﺣﺐ ﺇﻟﻲ ﻣﻦ ﺃﻥ ﺃﺻﻮﻡ ﻳﻮﻡ ﻋﺮﻓﺔ،
الجعديات/ مسند على بن الجعد:(512) صحيح واللفظ له مصنف ابن أبي شيبة:(13394) صحیح،أخبار مكة للفاكهي:(2770) صحیح،تهذيب الآثار،مسند عمر:(600 ،601) صحیح
ﺣﺪﺛﻨﺎ اﺑﻦ ﺑﺸﺎﺭ، ﺣﺪﺛﻨﺎ ﻋﺒﺪ اﻟﻮﻫﺎﺏ، ﻗﺎﻝ: ﺳﻤﻌﺖ ﻳﺤﻴﻰ ﺑﻦ ﺳﻌﻴﺪ، ﻗﺎﻝ: ﺳﻤﻌﺖ اﻟﻘﺎﺳﻢ ﺑﻦ ﻣﺤﻤﺪ، ﻗﺎﻝ: ﺭﺃﻳﺖ ﻋﺎﺋﺸﺔ ﻋﺸﻴﺔ ﻋﺮﻓﺔ ﻳﺪﻓﻊ اﻹﻣﺎﻡ، ﻓﺘﻘﻒ ﺑﻌﺪ ﺣﺘﻰ ﻳﻘﺼﻰ ﻣﺎ ﺑﻴﻨﻬﺎ ﻭﺑﻴﻦ اﻟﻨﺎﺱ ﻣﻦ اﻷﺭﺽ، ﺛﻢ ﺗﺪﻋﻮ ﺑﺎﻟﺸﺮاﺏ ﻓﺘﻔﻄﺮ، تهذيب الآثار،مسند عمر :(606) صحیح

امام قاسم بن محمد رحمه الله تعالى سے یوم عرفہ کا روزہ رکھنا ثابت ہے۔
مصنف ابن أبي شيبة:(13395) صحیح، تهذيب الآثار،مسند عمر:(609) صحیح
امام قتادہ بن دعامہ ثقہ تابعی جلیل نے کہا:
ﻻ ﺑﺄﺱ ﺑﺼﻴﺎﻡ ﻳﻮﻡ ﻋﺮﻓﺔ، مصنف عبد الرزاق:(7824) صحیح
یہ ان کا اپنا ذاتی موقف ہے لہزا یہ بلاشبہ صحیح ہے۔
امام طاؤس حالت اقامت میں یوم عرفہ کا روزہ رکھتے تھے۔
مصنف عبد الرزاق:(7825) صحیح
حسنین کریمین فرماتے ہیں:

ﻣﺎ اﺧﺘﻠﻔﻨﺎ، ﻣﻦ ﺻﺎﻡ ﻓﺤﺴﻦ، ﻭﻣﻦ ﻟﻢ ﻳﺼﻢ فلا ﺑﺄس، مصنف عبد الرزاق:(7830)

عبد الله بن عمر رضی الله سے جب یوم عرفہ کے روزے کے بارے پوچھا گیا تو کہا:

ﻛﻨﺎ ﻭﻧﺤﻦ ﻣﻊ ﺭﺳﻮﻝ اﻟﻠﻪ ﺻﻠﻰ اﻟﻠﻪ ﻋﻠﻴﻪ ﻭﺳﻠﻢ ﻧﻌﺪﻟﻪ بصوم ﺳﻨﺔ،
أخبار مكة للفاكهي:(2765) قال المحقق إسناده حسن،شرح معاني الآثار للطحاوي:(3269)

امام حسن کہتے ہیں ۔

ﻟﻘﺪ ﺭﺃﻳﺖ ﻋﺜﻤﺎﻥ ﺑﻦ ﺃﺑﻲ اﻟﻌﺎﺹ ﺭﺿﻲ اﻟﻠﻪ ﻋﻨﻬﻤﺎ ﻳﺮﺵ ﻋﻠﻴﻪ ﻣﺎء ﻓﻲ ﻳﻮﻡ ﻋﺮﻓﺔ ﻭﻫﻮ ﺻﺎﺋﻢ،
أخبار مكة للفاكهي:(2667) صحیح، تهذيب الآثار،مسند عمر للطبري:(602 ،603) صحیح
ﻣﺎ ﺣﺪﺛﻨﺎ اﺑﻦ ﺃﺑﻲ ﺩاﻭﺩ ﻗﺎﻝ: ﺛﻨﺎ ﺳﻬﻞ ﺑﻦ ﺑﻜﺎﺭ ﻗﺎﻝ: ﺛﻨﺎ ﺃﺑﻮ ﻋﻮاﻧﺔ ﻗﺎﻝ: ﺛﻨﺎ ﺭﻗﺒﺔ ﻋﻦ ﺟﺒﻠﺔ ﺑﻦ ﺳﺤﻴﻢ ﻗﺎﻝ: ﺳﻤﻌﺖ اﺑﻦ ﻋﻤﺮ ﺭﺿﻲ اﻟﻠﻪ ﻋﻨﻬﻤﺎ ﺳﺌﻞ ﻋﻦ ﺻﻮﻡ ﻳﻮﻡ اﻟﺠﻤﻌﺔ ﻭﻳﻮﻡ ﻋﺮﻓﺔ ﻓﺄﻣﺮ ﺑﺼﻴﺎﻣﻬﻤﺎ، شرح معاني الآثار للطحاوي:(3266)

امام عروہ بن زبیر بھی یہ روزہ رکھتے تھے ۔
تهذيب الآثار،مسند عمر للطبري:(604) صحیح
رہا مسئلہ امام بخاری کے عبد الله بن معبد الزماني کے أبو قتادہ رضی الله عنہ سے سماع کی عدم معرفت کا تو ان ائمہ محدثین وقرائن کی موجودگی میں اس کا کوئی وزن نہیں ہے بس یہ امام صاحب کا اپنا اجتہاد ہے جو غیر صاحب ہے اور امام مسلم نے اس مسئلہ میں اپنے شیخ سے موافقت نہیں کی، جو اسے مزید کمزور بنا دیتی ہے۔
تو راجح یہی ہے کہ یہ حدیث صحیح متصل ہے اور یہ روزہ سلف صالحین رکھتے تھے اور کچھ سلف صالحین صرف دعا وعبادت کی غرض سے یہ روزہ ترک کرتے تھے۔

هذا ما عندي والله أعلم بالصواب

فضیلۃ العالم ابو انس طیبی حفظہ اللہ