ابو عبیدہ بمقابلہ ہگاری: حق اور باطل کا ٹکراؤ
آج تاریخِ انسانی کا وہ باب رقم ہو رہا ہے جہاں ایک گمنام سپاہی نے دنیا کی تمام مادی طاقتوں کے غرور کو خاک میں ملا دیا۔ وہ مردِ مجاہد، جس نے چہرے پر سرخ رومال (کوفیہ) سجا کر جدید دور کے فرعونوں کی نیندیں حرام کر رکھی تھیں، اپنے خالقِ حقیقی کے حضور سرخرو ہو کر پیش ہو گیا۔ لیکن وہ اپنے پیچھے ایک ایسا شعلہ چھوڑ گیا ہے جسے دنیا کا کوئی طوفان نہیں بجھا سکتا۔
الوداع اے مردِ جری! تیری خاموشی بھی اب باطل کے لیے لرزہ خیز ہے!
قرآنِ کریم میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
وَقُلْ جَاءَ الْحَقُّ وَزَهَقَ الْبَاطِلُ ۚ إِنَّ الْبَاطِلَ كَانَ زَهُوقًا
“اور فرما دیجیے کہ حق آ گیا اور باطل مٹ گیا، بے شک باطل مٹنے ہی والا تھا۔” (سورۃ الاسراء: 81)
ایک طرف دنیا کی ظاہری چمک دمک اور طاقت کا تکبر تھا—صہیونی ریاست کا وہ ترجمان جس کے پیچھے اربوں ڈالرز کا بجٹ، عالمی میڈیا کی پشت پناہی اور پروپیگنڈے کے مصنوعی سہارے تھے۔ وہ جتنا جھوٹ بولتا تھا، حقیقت اسے اتنا ہی جھٹلاتی تھی۔ آج وہ دنیا کی نظروں میں محض ایک “تنخواہ دار مہرہ” ہے، جسے تاریخ کے کوڑے دان میں جگہ ملے گی۔
دوسری طرف ابو عبیدہ تھا! جس نے کسی تشہیر، کسی کیمرے اور کسی پروپیگنڈے کے بغیر، محض اپنے اخلاص اور “اللہ اکبر” کی صدا سے پوری دنیا کے ضمیر کو جنجھوڑ کر رکھ دیا۔ اس نے ثابت کر دیا کہ فتح ٹیکنالوجی کی نہیں، بلکہ اس یقین کی ہوتی ہے جو بدر و احد کے جانثاروں کا خاصہ تھا۔
ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
إِن يَنصُرْكُمُ اللَّهُ فَلَا غَالِبَ لَكُمْ
“اگر اللہ تمہاری مدد کرے تو تم پر کوئی غالب نہیں آ سکتا۔” (سورۃ آل عمران: 160)
باطل نے اپنی جھوٹی کہانیاں اور زہریلا بیانیہ بیچنے کے لیے تجوریاں خالی کر دیں، لیکن ابو عبیدہ نے اپنے لہجے کی سچائی سے امتِ مسلمہ کی نئی نسل کا قبلہ درست کر دیا۔ دشمن سمجھتا تھا کہ وہ ایک “آواز” کو دبا رہا ہے، اسے کیا معلوم کہ اس نے ایک “نظریے” کو جنم دے دیا ہے۔ آج فلسطین کی گلیوں سے لے کر پاکستان کے شہروں تک، ہر بچہ اپنے ہاتھ میں حق کا پرچم تھامے ابو عبیدہ کو اپنے لیے رول ماڈل مان چکا ہے۔
دشمن کی ٹیکنالوجی مات کھا گئی اور سچائی کا بول بالا ہوا۔ ہگاری کے ڈالر ہار گئے، ابو عبیدہ کا سرخ رومال (کوفیہ) جیت گیا۔ شہادت نے اس آواز کو وہ زندگی عطا کر دی ہے جو اب رہتی دنیا تک گونجتی رہے گی۔ وہ شخص جس کا چہرہ دنیا نے نہیں دیکھا تھا، آج ہر حق پرست کے دل کا نقش بن چکا ہے۔
قرآنِ پاک شہداء کی شان میں فرماتا ہے:
وَلَا تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ قُتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَمْوَاتًا ۚ بَلْ أَحْيَاءٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ يُرْزَقُونَ
“اور جو لوگ اللہ کی راہ میں قتل کیے گئے انہیں ہرگز مردہ نہ سمجھنا، بلکہ وہ زندہ ہیں، اپنے رب کے پاس سے رزق دیے جاتے ہیں۔” (سورۃ آل عمران: 169)
دلوں کے حکمران دیکھنے ہیں تو ابو عبیدہ ملثم آج ہر دل میں نقش اور اس کا نام ہر زبان پر ہے، جبکہ دوسری طرف طاقت و غرور کے نشے میں ڈوبے ترجمان کو کوئی جانتا تک نہیں ہے، بلکہ اگر ابو عبیدہ کے ساتھ اس کا ذکر نہیں کیا جاتا تو شاید ابھی بھی بہت سارے لوگوں کو اس کے متعلق کوئی علم ہی نہ ہوتا..!
مجاہدین جن کا نام لکھنے پر سوشل میڈیا بھی بیزار ہو جاتا ہے اور اس کا الگورتھم بھی ناک بھوں چڑھانا شروع کر دیتا ہے، آج وہ سارے سوشل میڈیا پر چھائے ہوئے ہیں، ان کے پورے نام لینے کی بھی ضرورت نہیں، لوگ اشاروں کنایوں سے بھی سمجھ جاتے ہیں، ہر لال رومال میں لپٹے چہرے کے پیچھے ابو عبیدہ نظر آتا ہے، جبکہ دوسری طرف فلم سازی کے باوجود، لاکھوں ڈالر لگانے کے باوجود کسی کی کوئی دلچسپی نہیں اور کسی کو جاننے کی کوئی پرواہ نہیں ہے…!
اے ربِ ذوالجلال! اپنے اس مجاہد کی قربانیوں کو قبول فرما۔ اسے جنت الفردوس میں بلند درجات عطا کر۔ جس طرح اس نے امت کے بچوں کو غیرت اور حمیت کے ساتھ جینا سکھایا، ہمیں بھی اس کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے حق کا ساتھ دینے کی توفیق عطا فرما اور دنیا میں ہر جگہ ظالموں و غاصبوں کو نشان عبرت بنا دے آمین۔
#خیال_خاطر
#AbuUbaida #Gaza #NewGenerationHero #FaithOverFame #حق_و_باطل #ابوعبیدہ




