سوال (6519)
عدالت سے خلع لینے کی کوئی تعداد معین ہے؟
جواب
سوال مبہم ہے، اس کی وضاحت ہونی چاہیے۔
فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ
سائل: خاتون نے ایک شوہر سے عدالتی خلع لیا ہے۔ اب دوسرے کے ساتھ بھی یہی معاملہ ہو چکا ہے۔ اب مزید نکاح کے لیے اس پر پابندی لگا دی گئی ہے۔ کہ پھر نہ چل سکی تو پھر خلع نہیں لے سکتی۔ کیا اب اس پر نکاح کی پابندی درست ہے؟ کیا خلع کی کوئی حد تعداد مقرر ہے؟
جواب: ہمارے علم کے مطابق شریعت نے کوئی حد نہیں بتائی، باقی بے مقصد کے خلع لینے والی عورت کو منافقہ کہا گیا ہے، جیسے مرد پر کوئی طلاق کے حوالے سے پابندی نہیں ہے، ایسے ہی عورت پر بھی خلع کے حوالے سے کوئی پابندی نہیں ہے، البتہ حاکم وقت زجر و توبیخ کے طور پر روک سکتا ہے، ایسے واقعات سیرت میں پائے جاتے ہیں، تعزیری طور پر سزائیں ملتی ہیں، عدالت اگر ایسا کیا ہے تو اس کو پاسداری کرنی چاہیے۔
فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ
سائل: جزاکم اللہ خیرا: ہمارا یہی موقف ہے لیکن مسئلہ یہ ہے کہ پابندی عدالت کی نہیں بلکہ معاشرہ اور گھر والوں کی ہے۔ حالانکہ خاتون اپنا خود سب کچھ کرتی ہے تین بچے پالنے کی ذمہ داری ہے۔ اس میں کوئی خیر خواہی نہیں کرتا۔
جواب: اس عورت کو سمجھایا جائے کہ وہ ایسا کیوں کر رہی ہے، معاشرے اور برادری کو یہ قدم اٹھانا پڑا کہ اس پر پابندی لگادی ہے، اگر وہ آخرت کی فکر کرتی ہے تو اصلاح کرے گی، توبہ کا دروازہ کھولا ہوا ہے، عدالت کے ذریعے سے کوئی ولی کھڑا نہیں ہو رہا، تو پھر عدالت کے ذریعے نکاح کرلے، اپنا گھر آباد کرلے۔
فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ




