سوال (3016)
ادویات میں جو نشہ آور اشیاء استعمال کی جاتی ہیں؟ ان کی تجارت کرنا جائز ہے؟
مثلاً فیم چرس وغیرہ۔
جواب
نشے والی چیز میں شفا نہیں ہوتی ہے۔
وَقَالَ ابْنُ مَسْعُودٍ فِي السَّكَرِ : إِنَّ اللَّهَ لَمْ يَجْعَلْ شِفَاءَكُمْ فِيمَا حَرَّمَ عَلَيْكُمْ. [صحيح البخاري]
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نشہ آور چیز کے بارے میں فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے اس چیز میں شفاء نہیں رکھا ہے، جس کو اللہ تعالیٰ نے حرام کیا ہے۔
لہذا یہ ناجائز ہوگا۔
فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ
سائل: دیکھنے میں آیا ہے کی اکثر حکیم اسے بطور علاج استعمال کرتے ہیں؟
جواب: علاج تو کرتے ہیں، لیکن یہ جائز نہیں ہے۔
فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ
سوال: دوا میں نشا آور چیزیں استعمال کرنا کیسا ہے؟
جواب: براہ راست دوا میں خمر اور مسکر چیز کا استعمال صحیح نہیں ہے، کیونکہ جو چیز اللہ تعالیٰ نے حرام کی ہے، اس میں شفاء نہیں ہے، ممکن ہے کہ وقتی طور انسان کو ایسا لگے کہ یہ میرے لیے صحیح ہے، لیکن یہ جائز نہیں ہے، شراب کے بارے میں پوچھا گیا تھا، لیکن جواب یہ دیا گیا تھا کہ یہ خود بیماری ہے، اس سے کیا علاج کرنا ہے۔
فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ
سائل: تریاق افین سے علاج کروا سکتے ہیں؟
جواب: اگر تریاق میں واقعتاً افین کا استعمال ہوتا ہے تو اس کا استعمال جائز نہیں ہے۔
فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ




