سوال      6761

السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ
شیعہ حضرات ہمیں کہتے ہیں کے اہل بیت کی اطاعت فرض ہے جس نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ حسین رضی اللہ عنہ کی اطاعت فرض ہے قران حکیم کو سمجھنا ہے تو اہل بیت کی زندگی اور انکی اطاعت کرنی پڑے گی جو ایسا نہیں کرے وه مسلمان نہیں تمہارے اپنے علماء یہ اتنی واضح دلیل دے رہے ہیں۔
ہم نے حدیث ثقلین مسلم 6225 پڑھی ہے اس میں تو کتاب اللہ کو پکڑنے اور اہل بیت کے معاملے میں اللہ تعالیٰ سے ڈرنے حکم دیا گیا ہے ذرا وضاحت فرما دیں۔

جواب

وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ وبرکاتہ۔
دیکھیں، صحیح مسلم میں حدیث موجود ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: میں تم میں دو بھاری چیزیں چھوڑ کر جا رہا ہوں، ایک کتابُ اللہ اور دوسری میری عترت، میرے اہلِ بیت۔
اس حدیث سے مراد یہ ہرگز نہیں کہ اہلِ بیت کی اطاعت اسی درجے میں واجب ہو جائے جس درجے میں رسولِ اکرم ﷺ کی اطاعت واجب ہے۔ بلکہ اس کا صحیح مفہوم یہ ہے کہ اہلِ بیت کو آئیڈیل اور رول ماڈل سمجھا جائے، ان کی مخالفت نہ کی جائے، اگر وہ موجود ہوں تو ان سے محبت کی جائے، ان کی تعظیم کو بجا لایا جائے اور ان کے مقام و مرتبے کو پہچانا جائے۔
یہی پس منظر تھا جس کی وجہ سے نبی علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اہلِ بیت کے فضائل کو نمایاں فرمایا۔
البتہ اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ قرآنِ مجید کی ہر تعبیر، ہر تفسیر اور ہر فہم لازماً اہلِ بیت سے ہی منقول ہو اور ہم صرف اسی کے پابند ہوں۔ ایسا نہ منقول ہے اور نہ ہی لازم۔
ہاں، اگر اہلِ بیت سے کوئی بات منقول ہو، تو جیسے آثارِ صحابہ موقوفاً بعض اوقات قبول کیے جاتے ہیں، اسی طرح اسے بھی قبول کیا جا سکتا ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ زندگی میں ان کو رول ماڈل بنایا جائے۔
چنانچہ اگر اہلِ بیت میں سے کوئی آج بھی دنیا کے کسی خطے میں موجود ہے اور شریعت پر قائم ہے، تو سو بسم اللہ، اس سے رہنمائی لی جائے۔ لیکن یہ بات واضح رہے کہ یہ اطاعت، اطاعتِ رسول ﷺ کے درجے کی اطاعت نہیں ہے۔ بس یہی اس حدیث کا صحیح اور متوازن مفہوم ہے۔

فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ

سائل: دین میں اس طرح کی گڑبڑ کرنے والوں کے پیچھے نماز اور جمعہ پڑھنا چاہئے کیوں کے ہمیں تو علم نہیں کے کب کوئی بات کر دیں اور ہمیں پتا بھی نہ چلے؟
جواب: دیکھیں، اس طرح کے جزوی تفردات، چھوٹے چھوٹے لغزشیں، پیروں کا پھسل جانا یا زبان سے غیر ارادی پھسل جانا، یا پیچھے کوئی خاص مقصد ہونا، کسی شخص کی پوری شخصیت کو مجروح یا ناپاک قرار دینے کا جواز نہیں دیتا۔
اگر کوئی فرد اپنی عبادت یا تقویٰ میں کمی رکھ رہا ہو، نماز نہ پڑھ رہا ہو یا بچا ہوا کوئی عمل انجام نہیں دے رہا، یہ الگ معاملہ ہے، لیکن عام طور پر اس بنیاد پر فتویٰ صادر نہیں کیا جا سکتا کہ ایک شخص جو کتاب و سنت کا پابند ہے، اس کے دل میں کیا چل رہا ہے یا وہ کس کی خوشنودی چاہتا ہے۔ یہ سب نجیب اور عادلانہ نظر سے دیکھا جائے، اور جزوی لغزشوں کو بنیاد بنا کر شخصیت کو کلی طور پر مجروح قرار دینا درست نہیں اور یہ بات محل نظر ہے۔

فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ