اے آئی سے استفادہ: حدود، فوائد اور ذاتی تجربات!

تاثرات
ڈاکٹر عبید الرحمن محسن

قبل ازیں ایک مضمون میں یہ بندہ فقیر واضح کر چکا ہے کہ اے آئی پر انحصار سے اسلامی تحقیق میں کیا غلطیاں اور بلنڈرز ممکن ہیں۔ حتیٰ کہ آیات اور کتابوں کے حوالے بھی بعض دفعہ خود ساختہ (من گھڑت/غلط) ہوتے ہیں۔ کیونکہ اے آئی بہرحال ایک محقق اور اسکالر نہیں ہے۔
یہ بات طے شدہ ہے کہ اے آئی انسانی دماغ، فقہی بصیرت، عالمانہ رائے اور مفتی کے فتویٰ کا قطعاً مکمل متبادل نہیں ہے۔ لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ اے آئی کے بغیر اب گزارہ نہیں ہے۔ اور اس سے بیزاری یا استغنا کوئی قابل تعریف رویہ نہیں ہے۔ جس طرح شاملہ اور دیگر اسلامی ڈیجیٹل مکتبات وقت کے ساتھ ساتھ ہمارے لیے مانوس ہو چکے ہیں اور ایک محقق کے لیے ان سے استغنا ممکن نہیں رہا، یہی صورت حال اب اے آئی ٹولز کی ہے۔
اس کے بغیر کام کی رفتار بہت ماند اور سست پڑ جائے گی۔
اس حوالے سے میں اپنے چند تجربات شیئر کر رہا ہوں تاکہ دیگر اہل علم مناسب سمجھیں تو استفادہ کریں اور اس فقیر کو دعائے خیر سے نوازیں۔ اور اس لیے بھی کہ دیگر اہل علم جن جن ذرائع سے استفادہ کر رہے ہیں وہ بھی اپنے تجربات شیئر کریں۔
1: ویڈیو سے ٹیکسٹ لکھوانا: میں نے اپنے خطبات کو تحریری شکل میں لانے کے لیے ایک معاون محقق کی خدمات حاصل کیں۔ ایک عرصے کے بعد بڑی مشکل سے چند خطبات تحریری قالب میں ڈھل سکے۔ آج میں نے اپنی ہی ایک ویڈیو، اپنے یوٹیوب چینل سے لنک دے کر، کاپی پیسٹ کی اور اے آئی جیمنی کو مندرجہ ذیل میسیج کیا:
//
..اس ویڈیو کا جائزہ لیں
۔۔اس کے کنٹینٹس کو غور سے سنیں
۔۔جو اس ویڈیو میں مواد ہے اسے لفظ بہ لفظ مرتب کریں ۔
//
جواب میرے لیے حیران کن تھا۔ پون گھنٹے کی تقریر کا تجزیہ اور اس کا ٹیکسٹ میرے سامنے موجود تھا۔ ستر فیصد درست تھا، تیس فیصد پروف کی غلطیاں، آیات کی مسنگز اور کچھ دیگر اخطاء بہرحال موجود تھیں۔ اے علما کرام! سچ سچ بتائیں، اے آئی نعمت غیر مترقبہ ہے کہ نہیں۔
2: پی ڈی ایف کتاب کی تلخیص لکھوانا: میں اصول دعوت پر ایک کتاب مرتب کر رہا ہوں۔ اصول دعوت پر جو کتب میری نظر سے گزری ہیں، ان میں شیخ عدنان عرعور کی منہج الدعوۃ المعاصرۃ خاصے کی چیز ہے۔ میں اس کتاب کو متعدد بار پڑھ چکا ہوں۔ میں اس کے مندرجات/محتویات کو اردو میں مختصراً ایک نظر منتقل کرنا چاہتا تھا۔ اس کی پی ڈی ایف میں نے اے آئی کے ساتھ شیئر کی اور کہا: “اس کو غور سے پڑھیں اور اس کا خلاصہ مرتب کریں۔” جب خلاصہ سامنے آیا تو میں نے کہا: “اسے اردو زبان میں ترجمہ کریں۔” میرے لیے یہ بھی بڑا خوش گوار تجربہ تھا۔
3: افتاء میں مشاورت: جب اے آئی سے نیا نیا تعارف ہوا تو میں نے پوچھا کہ کیا اب اے آئی مفتی کا متبادل ہے؟ اگر اے آئی کی غلطی کی بنیاد پر فتویٰ غلط ہو جائے تو فردِ جرم کس پر عائد ہوگی؟ جواب بہت جامع، خوب صورت اور تسلی بخش تھا۔
4: پروف ریڈنگ: اے آئی پروف ریڈنگ میں بھی بہت معاون ثابت ہوتا ہے اور بہت دفعہ زبردست پروف ریڈنگ کرتا ہے۔ تاہم اس پر کلی انحصار درست نہیں ہے۔ نظر ثانی اور اصلاح ضروری ہے۔
5: مضمون کی تکمیل اور ترتیب میں مدد لینا: جب وقت کی کمی ہوتی تو میں عموماً آیت مبارکہ کا پہلا اور آخری حصہ لکھ کر کمپوزر سے کہتا تھا کہ یہ آیت مکمل فلاں ترجمے سے کاپی پیسٹ کر دیجیے گا۔ اب یہی کام میں کبھی کبھار اے آئی سے لے لیتا ہوں اور اچھا رزلٹ ملتا ہے۔ تاہم نظر ثانی ضروری ہے۔
6: اسلوب کی اصلاح: بعض اوقات ہماری تحریر میں جاندار الفاظ اور مناسب تعبیرات و کلمات کی تشنگی محسوس ہوتی ہے۔ اس مقصد کے لیے میں اپنے لکھے ہوئے مضمون کو دو تین دفعہ دیکھتا ہوں اور تقدیم و تاخیر، موزوں مترادفات سے اسے مزین کرتا ہوں۔ اب بعض جملوں اور پیراگرافز کی بہتری کے لیے اے آئی سے مدد لے لیتا ہوں اور بہت اچھے نتائج ملتے ہیں۔
7: تحریری کاموں میں رفتار کو بہتر بنانا: آپ حیران ہوں گے کہ مجھے پروفیشنل ٹائپنگ نہیں آتی۔ میں نے ایم اے کا مقالہ اور پی ایچ ڈی کا تھیسس اس دور میں لکھا جب میں نہ انٹرنیٹ کی دنیا سے واقف تھا، نہ ہی شاملہ استعمال کرتا تھا اور نہ ہی واٹس ایپ کی دنیا سے آگاہ تھا۔ میری متعدد کتابیں بڑی محنتِ شاقہ کے بعد قابلِ اشاعت ہوئیں۔ میں نے اپنے مقالے اپنے ہاتھ سے دو تین دفعہ لکھے تب موجودہ صورت میں دیکھنے نصیب ہوئے ۔ میری اکثر کتابیں نوک قلم سے گزر کر اور ورق کے سینے کو چھید کر، کمپوزر کے حوالے ہوئیں اور پھر منظر عام پر آئیں۔ خالص کتاب کی دنیا سے بھرپور محبت کا دور جیا ہے اور وہ محبت آج میری رگوں میں رچی بسی ہے اور رچی بسی رہے گی۔ میں اپنے ادارے کے لیے اب بھی ہر سال لاکھوں کی کتب خریدتا ہوں اور اپنے طلبہ کو روزانہ کچھ وقت لائبریری میں ضرور لگواتا ہوں، اور میں سمجھتا ہوں کہ یہ سب کچھ تربیت کے لیے ضروری ہے۔ تاہم جو اہل علم ان مراحل سے گزر چکے ہوں، ان کے لیے اے آئی ایک بہترین معاون محقق ہے۔ ایک بہترین کمپوزر بھی ہے اور ایک بہترین پروف ریڈر بھی۔
البتہ مراجعہ کے بغیر من و عن نقل کرنے سے وہی صورت حال ہوگی جو کتاب کی پروف ریڈنگ سے پہلے ہوتی ہے۔
8: حوالہ جات کی تلاش اور تصحیح: تحقیق کے دوران کسی قول یا حدیث کا حوالہ (کتاب کا نام، جلد، صفحہ نمبر) تلاش کرنا ایک محنت طلب کام ہے۔ اے آئی سے کسی اقتباس یا متن کا حوالہ فوری طور پر معلوم کیا جا سکتا ہے۔ اگرچہ حتمی تصدیق اور تخریج از خود ضروری ہے، یہ معاونت وقت کی بچت کا باعث بنتی ہے۔
9: مختلف زبانوں سے ترجمہ میں معاونت: ایک محقق کو اکثر عربی، فارسی، یا انگریزی کے نصوص کا مطالعہ کرنا پڑتا ہے۔ اے آئی ان نصوص کا ابتدائی اور خام ترجمہ فراہم کر دیتا ہے، جسے اسکالر اپنی بصیرت سے بہتر بنا سکتا ہے، اس طرح ایک غیر ملکی متن کو سمجھنے کا عمل تیز ہو جاتا ہے۔
10: عنوانات اور ذیلی عنوانات کی تجویز: جب کوئی طویل مقالہ یا کتاب مرتب کی جاتی ہے تو مواد کی ترتیب اور مناسب عنوانات/ذیلی عنوانات کا انتخاب ایک اہم مرحلہ ہوتا ہے۔ اے آئی مواد کا تجزیہ کر کے موضوع کے مطابق منطقی اور مؤثر عنوانات تجویز کرنے میں مدد دے سکتا ہے، جس سے تحریر کو بہتر ڈھانچہ ملتا ہے۔
بہرحال عرض کرنے کا مقصد صرف یہ ہے کہ نہ تو اس پر کلی انحصار کریں اور نہ ہی اس سے بے نیازی اور دوری کا رویہ اپنائیں۔ اس سے مناسب اور جائز حدود میں ضرور استفادہ کریں۔ آپ کا مہینوں اور سالوں کا کام مختصر وقت میں سمٹ جائے گا۔ یوں سمجھ لیجیے جیسے ایک طرف کوئی بزرگ عالم پیدل سفر کر رہے ہوں اور دوسری طرف کوئی نوجوان اپنی گاڑی پر منزل کی طرف رواں دواں ہو۔ جو ان دونوں کی رفتار میں فرق ہوگا وہی اے آئی کے بغیر اور اے آئی سے تعاون لینے کے بعد ہوگا۔ تاہم الحذر الحذر۔۔ اصل کتب اور انسانی بصیرت سے استغنا بہرحال ممکن نہیں اور نہ ہی ہم اس کی دعوت دے رہے ہیں۔
اس مضمون کے اختتام پر یہ وضاحتی نوٹ بھی قابل ذکر ہے:
اس مضمون کے پہلے سات نکات (1 تا 7) کا ایک ایک لفظ میں نے خود لکھا ہے ۔ جبکہ آخری تین نکات (8 تا 10) میں نے اے آئی کو واضح ہدایات دے کر اسی سے مرتب کروائے ہیں۔اور میں نے یہ بھی کہا کہ بقیہ تین نکات میرے اسلوب میں ہی یہ مکمل کریں۔ آپ خود موازنہ کرلیجیے اور پھر داد دیجیے کہ اے آئی کس قدر اطاعت شعار اور فرمان بردار معاون محقق ہے ۔حتیٰ کہ اس پورے مضمون کی پروف ریڈنگ کا کام بھی اسی (اے آئی) سے لیا گیا ہے۔
اس سے آپ اندازہ کر سکتے ہیں کہ اے آئی کس قدر مفید معاون (ٹول) ہے، تاہم اس سے درست اور مؤثر استفادے کے لیے ایک روشن دماغ اور جامع ہدایات لکھنے کی ضرورت ہوتی ہے۔
اور ہاں یہ وضاحت بھی ضروری ہے کہ اے آئی ٹولز بھی صلاحیت اور نتائج کے اعتبار سے مختلف درجات کی حامل ہوتے ہیں۔
میں نے یہ تجربات جیمنی کی روشنی میں ذکر کیے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:اے آئی چیٹ بوٹس کے انسانوں سے 10 شکوے