اے آئی ٹولز کی موسلا دھار بارش اور ہماری کوتاہی

اے آئی ٹولز اتنی تیزی سے مارکیٹ میں آ رہے ہیں کہ پوری کوشش اور توجہ کے باوجود سب کو استعمال کرنا تو دور کی بات، سب کے بارے میں معلومات رکھنا بھی مشکل ہو جاتا ہے۔
لہذا اپنے میدان کے لحاظ سے ضروریات کا تعین کریں اور اس کے لیے متعلقہ اے آئی ٹولز کو استعمال کرنا شروع کریں۔
وہی گھسی پھٹی بات نہ کہیے گا کہ اے آئی بہت غلطیاں کرتا ہے، اس سے صلاحتیں ختم ہو جاتی ہیں وغیرہ، استعمال کرنے والا جتنا سمجھدار ہو گا، اے آئی اس کا اسی قدر تابع فرمان ہو گا۔ گھوڑے کی مثال لے لیں، اناڑی کو گراتا ہے، جبکہ ماہر کو ہواؤں میں اڑاتا ہے! گھڑ سوار کی مہارت خود دوڑ لگانے میں نہیں، بلکہ گھوڑا دوڑانے میں ہے!
یاد رکھیے! بہت جلد وقت آنے والا ہے کہ یہ ساری ترقی معمول کا حصہ بن جائے گی، اور جس شخص کو ان چیزوں کا علم نہیں ہو گا، اس کے بارے یہ نہیں سمجھا جائے گا کہ اسے ایک اضافی چیز یا سکل نہیں آتی، بلکہ طنزیہ کہا جائے گا کہ دیکھو جی اس کو تو اے آئی ٹولز استعمال کرنا بھی نہیں آتے…!
آخری بات بھی سن لیں جو کہ میں نے کہنی نہیں تھی، لیکن صرف اس لیے کہ بعض چیزیں ’ہم مولوی کی بات سمجھ کر’ ان پر توجہ نہیں دیتے…!
الحمد للہ اے آئی ٹولز اور ان کے استعمال کے حوالے سے میں آئی ٹی کے کئی ایکسپرٹس کے ساتھ تبادلہ خیال کرتا رہتا ہوں، عموما متاثر ہی ہوتے ہیں اور بعض دفعہ رہنمائی کی درخواست بھی کرتے ہیں!
ہمارے ایک دوست ہیں بہت اچھے اور پروفیشنل ڈیزائنر اور ایڈیٹر ہیں، آج سے غالبا سال ڈیڑھ پہلے مجھے کہنے لگے کہ حافظ صاحب اے آئی سے جتنا آپ فائدہ اٹھا رہے ہیں، ہمیں اس پر رشک آتا ہے۔
ایک نہیں کئی فل سٹیک ڈویلپرز میرے حلقہ احباب میں ہیں، جن سے میں سیکھتا رہتا ہوں، لیکن بہت دفعہ جب ان کے ساتھ معلومات شیئر کروں تو حیران ہوتے ہیں کہ اے آئی سے فلاں کام بھی ہو جاتا ہے؟!
خیر میرے جیسے مولوی کو جو مرضی سمجھیں یہ کوئی اہم مسئلہ نہیں ہے، لیکن اے آئی کے درست استعمال کو ہلکا نہ سمجھیں، کم از کم مثبت استعمال ضرور کریں اور اگلا مرحلہ یہ ہے کہ اے آئی میں گھس کر ٹولز بنائیں اور دعوت دین، اور تحقیق و تصنیف وغیرہ جس میدان کے بھی ماہر ہیں، اس میں لوگوں کی مدد کریں…!
تعلیمی اداروں میں مناہج البحث، طرق التدریس وغیرہ اسباق میں اے آئی ٹولز کے استعمال کی عملی تدریب و مشق کو شامل کریں، تخصصات کے ادارے ہمارے ہاں کافی کھلے ہوئے ہیں، ان میں جس قدر ہو سکتا ہے، ان چیزوں کے حوالے سے تربیت کی جائے، بلکہ اگر اللہ تعالی نے کسی کو وسائل دیے ہیں تو باقاعدہ ایسا تخصص کا پروگرام شروع کیا جا سکتا ہے، جس میں سب اساتذہ اور بچوں کو ٹرینڈ کیا جائے کہ عصر حاضر میں اسلام کی خدمت میں جدید ٹیکنالوجی سے کیسے فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے؟ مکمل کورس اسی کے گرد گھومے تو یہ بھی ایک اہم ضرورت کی تکمیل ہو گی. ان شاء اللہ۔
محدثین کے زمانے میں پسندیدہ اور عزیمت والا کام احادیث کو زبانی یاد کرنا سمجھا جاتا تھا، لیکن پھر بھی محدثین نے کتابیں لکھیں، بلکہ سارا کچھ لکھا ہوا تھا، پھر بھی بخاری و مسلم نے صحیحین ترتیب دی، ہم عموما یہ کہتے کہ فلاں نے صحیحین کو سراہا، فلاں نے تعریف کی، لیکن یہ بھی سن لیں کہ اسی زمانے میں بعض کبار محدثین نے صحیحین کی تصنیف پر خدشات کا اظہار بھی کیا تھا، پھر گزرتے وقت نے ثابت کیا کہ شیخین نے صحیحین لکھ کر ایک بہت بڑا فریضہ سر انجام دیا.. لہذا ہو سکتا ہے کہ ہماری باتیں سن کر بعض روایتی علماء اور طلبہ سمجھیں کہ شاید ہم لوگوں کو کتاب اور روایت سے دور کر رہے ہیں، یہ ان کی سادگی اور وہم ہو سکتا ہے، الحمد للہ جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے اسلام کی خدمت میں ایسا کوئی مسئلہ نہیں ہوگا، بلکہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اس کی اہمیت و ضرورت نمایاں ہوتی جائے گی۔
ہمارے بڑوں نے فلاں کام فوری کیوں نہیں کیا تھا؟! یہ الفاظ ابھی ہم کہتے ہیں، ایسا نہ ہو کہ آنے والی نسلیں یہ سب ہمارے بارے میں کہیں، اگرچہ دوڑنے والے ابھی بھی کافی آگے جا چکے ہیں!
بہرصورت ہم ٹیکنالوجی کے ’’اچھے صارفین’’ بن گئے تو ’’بہترین موجدین’’ بھی بنیں گے. ان شاء اللہ.
جاتے جاتے ایک اور بات سن جائیں کہ فیک خبریں ، تصویریں، ویڈیوز بنوانا، یا خود کو کبھی کسی کے ساتھ دکھانا، کبھی کسی کے ساتھ کھڑا کرنا، یا ٹوپیاں پگڑیاں، گاڑیاں، سواریاں بدلنا میری مراد اس قسم کا اے آئی کا استعمال نہیں ہے، کیونکہ ان میں سے بعض تو شریعت سے متصادم اور بعض کم از کم مکروہ کے درجے میں ضرور ہیں۔

#خیال_خاطر

اور بھائیو یہ تو آپ کو پتہ ہی ہے کہ ’سلام’ غلط لکھنا حرام ہے…!

یہ بھی پڑھیں:مشینوں کی اسلامی تربیت، عصر حاضر کی اہم ضرورت