سوال (5649)

ایک بھائی فوت ہو گئے ہیں ان کے نام 2 گاڑیاں تھیں ان کی مالیت تقریباً 45 لاکھ ہے تو وراثت کیسے تقسیم ہو گی؟ ورثاء کی تفصیل:
1۔ والدہ ہیں
2۔ 2 بہنیں ہیں
3۔ 3 بیٹے ہیں
4۔ 1 بیٹی ہے
5۔ بیگم بھی ہے
نوٹ: تمام بچے نابالغ ہیں ابھی۔ وضاحت فرما دیں۔

جواب

اگر کسی شخص کا انتقال ہوا ہے، اور اس کی بیوی زندہ ہے، والدہ زندہ ہے، اولاد (بیٹے اور بیٹیاں) موجود ہیں، اولاد کی موجودگی میں بہنیں محروم رہیں گی۔
تو شرعی تقسیم یوں ہوگی:
1. بیوی کو آٹھواں حصہ (1/8) ملے گا کیونکہ میت کی اولاد موجود ہے۔
2. ماں کو چھٹا حصہ (1/6) ملے گا کیونکہ اولاد موجود ہے۔
3. باقی مال (یعنی 24 میں سے جو بچے گا) وہ اولاد میں تقسیم ہوگا، اس قاعدے کے مطابق کہ ہر بیٹے کو بیٹی سے دُگنا ملے گا۔
مثال:
کل مال: 24 حصے
بیوی کو: 1/8 = 3 حصے
ماں کو: 1/6 = 4 حصے
باقی: 24 – (3+4) = 17 حصے
اب ان 17 حصوں کو بیٹوں اور بیٹیوں میں تقسیم کریں گے، اس قاعدے سے کہ بیٹے کو بیٹی سے دگنا ملے۔

فضیلۃ الشیخ عبد الرزاق زاہد حفظہ اللہ

بیان کیے گئے ورثاء میں سے دونوں بہنوں کو کچھ بھی نہیں ملے گا کیونکہ اولاد میں بیٹا اور بیٹی دونوں موجود ہوں تو بہن بھائیوں کا کوئی حصہ نہیں ہوتا۔
دیگر ورثاء میں سے والدہ کو کل مالیت کا چھٹا حصہ اور بیوی کو کل مالیت کا آٹھواں حصہ دیا جائے گا اور جو باقی بچے للذکر مثل حظ الانثیین کے تحت اس کے سات حصے کریں جن میں سے ایک حصہ بیٹی کو اور دو دو حصے تینوں بیٹوں کو دیے جائیں گے۔
45 لاکھ کی تقسیم میں سے ملیں گے،
والدہ کو سات لاکھ پچاس ہزار
7,50,000 روپے
بیوی کو پانچ لاکھ باسٹھ ہزار پانچ سو
5,62,500 روپے
بیٹی کو چار لاکھ پچپن ہزار تین سو اٹھاون
4,55,358 روپے
ہر بیٹے کو نو لاکھ دس ہزار سات سو چودہ
9,10,714 روپے
بچوں کےنابالغ ہونے کی صورت میں کسی ایماندار اور قابل اعتماد شخص کو اس کا نگران اور ذمہ دار بنایا جا سکتا ہے۔ جو اس رقم کی حفاظت کرے یا والدہ خود سنبھال کر رکھے اور بچوں کے سمجھدار ہونے پرانہیں دے دے یا کسی کے سپرد کرے یا بچوں کی طرف سے کسی ایسی جگہ انویسٹ کرے جہاں سود اور حرام کی آمیزش نہ ہو۔ سب سے بہتر ہے کہ مقامی حالات کے مطابق اپنے والدین اور مرحوم شوہر کے والدین یا خاندان میں سے صحیح فیصلہ کرنے والے سے مشورہ کر لے کہ یہ بچوں کا حصہ کیسے محفوظ کیا جائے تاکہ بڑے ہونے پر ان کے کام آ سکے۔

فضیلۃ الباحث طارق رشید وہاڑی حفظہ اللہ