جامعہ سلفیہ کے افق سے ایک اور ستارہ غروب ہوا
تحریر: عبدالقیوم فرُّخ
مولانا عبدالرشید ضیاء صاحب رحمہ اللہ تعالیٰ کا جامعہ سلفیہ میں عرصۂ تدریس بظاہر مختصر، یعنی تقریباً دو برسوں پر مشتمل تھا، لیکن اس قلیل مدت میں انہوں نے جس اخلاص اور ذمہ داری کے ساتھ خدمات سرانجام دیں، وہ قابلِ ستائش ہے۔
ادارے کی جانب سے انہیں جو بھی ذمہ داری سونپی گئی، انہوں نے خوش دلی اور شرحِ صدر کے ساتھ اسے قبول کیا۔ جو کتاب ان کے سپرد کی گئی، اسے انہوں نے مکمل احساسِ ذمہ داری کے ساتھ پڑھایا۔ طلبہ اور اساتذہ ان کی تدریسی صلاحیتوں سے مطمئن تھے۔ وہ نہایت سادہ مزاج، اپنے کام سے کام رکھنے والے، بے ضرر اور باوقار شخصیت تھے۔ گفتگو میں دو ٹوک، مختصر اور مقصد پر مبنی بات کرتے تھے۔ غیر ضروری طول، تکرار اور بے فائدہ گفتگو سے انہیں کوئی دلچسپی نہ تھی۔ یہی انداز ان کی تدریس اور خطبات میں بھی تھا؛ درس ہو یا خطبۂ جمعہ، ہر جگہ موضوع سے وابستگی اور اختصار ان کا خاص وصف تھا۔ ان کی شخصیت میں سنجیدگی کے ساتھ ساتھ ہلکا سا مزاح بھی شامل تھا، جو گفتگو کو خوشگوار بنا دیتا تھا۔
مولانا عبدالرشید ضیاء صاحب کا تعلق ضلع فیصل آباد کے علاقے جڑانوالہ (چک نمبر 24 گ ب) سے تھا۔ انہوں نے مختلف دینی مدارس سے تعلیم حاصل کی اور بعد ازاں متعدد معروف اداروں میں تدریسی خدمات انجام دیں، جن میں مرکز علوم اسلامیہ ستیانہ بنگلہ، جامعہ تعلیم الاسلام ماموں کانجن، اور 149 عارف والا کے ایک دینی ادارے کا نام نمایاں ہے۔ جب کہ تدریسی زندگی کے آخری ایام جامعہ سلفیہ میں بسر ہوئے۔ اس وقت ان کی رہائش فیصل آباد، سمندری روڈ، گلشنِ حرم میں تھی۔
اللہ تعالیٰ نے انہیں ہزاروں شاگردوں سے نوازا، جو آج نہ صرف پاکستان بلکہ بیرونِ ممالک بھی دین کی خدمت میں مصروف ہیں۔ ان کی نمایاں خصوصیات میں وسیع مطالعہ، علمی استحضار، مسائل پر گہری دسترس، اور دلائل کے ساتھ گفتگو کرنا شامل تھا۔ وہ کبھی بغیر دلیل کے بات نہیں کرتے تھے۔ وقت کی پابندی، نظم و ضبط اور طلبہ کے ساتھ حسنِ سلوک ان کی عملی زندگی کا روشن پہلو تھا۔
جامعہ سلفیہ میں آمد کے بعد وہ اکثر کہا کرتے تھے کہ ’’مجھے یہاں آنے میں دیر ہو گئی، مجھے پہلے ہی جامعہ سلفیہ آ جانا چاہیے تھا۔‘‘ جامعہ کا علمی ماحول، فضا، طلبہ و اساتذہ کا باہمی احترام، اور ادارے کے در و دیوار کی اپنائیت ان کی طبیعت کے عین مطابق تھی، اور وہ یہاں آ کر دلی طور پر خوش تھے۔
تقرری کے وقت جناب پرنسپل صاحب نے ان کے بارے میں معلومات حاصل کیں، اور اطمینان کے بعد انہیں فوری طور پر جامعہ سلفیہ میں خوش آمدید کہا گیا۔ پرنسپل صاحب نے فرمایا ایسے ہیرے کہاں ملتے ہیں! تدریس میں ان کی صلاحیت کا یہ عالم تھا کہ جہاں وہ پہلے پڑھاتے تھے، وہاں یہ بات مشہور تھی کہ کتاب ان کے سامنے رکھ دی جائے، طلبہ پڑھ پڑھ کر تھک جائیں گے مگر ضیا صاحب نہیں تھکیں گے۔ یہی وصف ہم نے بھی ان میں دیکھا۔ مشکل سے مشکل سبق کو نہایت سلیس، آسان اور واضح انداز میں بیان کرنا ان کا خاص کمال تھا۔
ان کی تحریر صاف، واضح اور خوش خط تھی، اور تقریر میں بھی اثر تھا۔ ہفتے میں ایک آدھ دفعہ وقفہ طعام کے دوران میرے کمرے میں تشریف لاتے، بعض اوقات پیغام بھیجتے کہ ’’آج ناشتہ آپ کے ساتھ کرنا ہے‘‘ اس مختصر وقت میں علمی گفتگو بھی ہوتی اور محبت بھرا وقت بھی گزرتا۔ میرے مختصر کتب خانے پر نظر پڑتی تو نئی کتابوں کے بارے میں پوچھتے، انہیں کھول کر دیکھتے، ورق گردانی کرتے، اور پھر تبصرہ فرماتے۔
جب بھی کسی مسئلے میں ان سے رہنمائی لی گئی، انہوں نے دو ٹوک، مدلل اور قرآن و سنت کی روشنی میں جواب دیا۔ جہاں کسی مسئلے میں مزید تحقیق کی ضرورت محسوس ہوتی، وہاں بلا تردد اس فن کے ماہرین سے رجوع کرتے اور کرواتے۔ ڈیڑھ ماہ پہلے ایک مسئلہ ان سے پوچھا گیا جس کا تعلق علمِ رجال اور جرح و تعدیل سے تھا، اس پر انہوں نے فرمایا: ’’یہ معاملہ لیبارٹری میں بھیجتے ہیں‘‘ یعنی اس فن کے متخصص علماء سے تحقیق کرواتے ہیں۔ اس ضمن میں انہوں نے متعدد اہلِ علم (جن میں شیخ الحدیث مولانا حافظ محمد شریف صاحب اور مولانا غلام مصطفی ظہیر امن پوری صاحب) سے رابطہ کیا اور تحقیق کے نتائج باقاعدہ ارسال کیے۔ یہ اور اس جیسی بے شمار خوبیاں ہیں جن کے گواہ ان کے رفقاء، شاگرد، احباب اور متعلقین ہیں۔
اللہ رب العزت سے دعا ہے کہ وہ مولانا عبدالرشید ضیاء صاحب رحمہ اللہ تعالیٰ کی تمام علمی و تدریسی کاوشوں کو شرفِ قبولیت عطا فرمائے، ان کے درجات بلند فرمائے، اور جامعہ میں ان کے خلاء کو کما حقہ پُر فرمائے۔
اک دیا اور بجھا۔۔۔۔!
شیخ الحدیث مولانا عبدالرشید ضیاء(جامعہ سلفیہ فیصل آباد) فی ذمة الله… إنا لله وإنا إليه راجعون ●●●
جامعہ سلفیہ فیصل آباد کے فاضل استاذ، شیخ الحدیث مولانا عبدالرشید ضیاء، اب سے کچھ دیر قبل یہاں فیصل آباد کارڈیالوجی میں بقضائے الہی وفات پا گئے ھیں۔
مرحوم گزشتہ روز قبل دوپہر اچانک حرکت قلب خراب ھونے کے باعث ھسپتال لائے گئے تھے۔ رات گئے تک حضرت کی طبیعت مختلف مراحل سے گزرتی رھی لیکن ابھی نصف شب کو حضرت شیخ الحدیث صاحب کے لئے امر ربنا العزیز جاری ھوا اور وہ اپنے خالق حقیقی سے جا ملے۔
ھم گزشتہ شب حضرت الشیخ کی عیادت کے لئے عزیزم حارث معاذ صاحب کے ھمراہ کارڈیالوجی گئے تو دیکھ کر بہت اچھا لگا کہ پروفیسر چوھدری محمد یاسین ظفر حفظہ اللہ کے حکم کی تعمیل کرتے ھوئے جامعہ سلفیہ کے سینئر مدرس مولانا محمد ارشد قصوری صاحب دیگر طلبہ کے ھمراہ عیادتدار کے طور پر موجود تھے۔ اھلخانہ کی موجودگی تو ھر مریض کے ساتھ ھوتی ھی ھے، شیخ مرحوم کے داماد اور بیٹے بھی موجود تھے لیکن ساتھی استاذ کے طور پر اساتذہ کا موجود ھونا، شاگردوں کے لئے ایک عملی رھنمائی ھوتا ھے۔
شیخ الحدیث مولانا عبدالرشید ضیاء مرحوم قبل ازیں مرکز الدعوہ السلفیہ ستیانہ بنگلہ اور جامعہ تعلیم الاسلام ماموں کانجن میں شیخ الحدیث کے منصب جلیلہ پر خدمات سرانجام دیتے رھے تھے۔ گزشتہ سے پیوستہ برس سے مرحوم کی خدمات جامعہ سلفیہ فیصل آباد نے حاصل کی تھیں۔ علاوہ ازیں شیخ الحدیث مرحوم یہاں فیصل آباد کی معروف قدیمی مسجد الفردوس اھل حدیث گلبرگ سی میں خطابت کی ذمہ داری بھی ادا فرماتے تھے۔
شیخ الحدیث مولانا عبدالرشید ضیاء مرحوم، ملک کے نامور مشائخ شیخ الحدیث مولانا قمر الزمان مدینی، شیخ الحدیث مولانا محمد ادریس مہنتانوالہ، اور مولانا عبدالخالق محمد صادق (الکویت) کے ھم زلف اور ھمارے دوست، فیصل آباد کے معروف خطیب پروفیسر عمر فاروق حفظہ اللہ کے برادر نسبتی تھے۔
مولانا عبدالرشید ضیاء مرحوم کی نماز جنازہ آج بروز منگل، بعد نماز ظہر، 01:30 بجے، جامع مسجد ابراھیم اھل حدیث، الائیڈ سٹی کمرشل، بالمقابل چناب گارڈن، سمندری روڈ، فیصل آباد میں ادا کی جائے گی۔ احباب سے بشرط امکان و سہولت نماز جنازہ میں شرکت کی درخواست ھے۔
عبدالصمد معاذ
برادری کے لوگ
محترم شیخ الحدیث مولانا عبدالرشید ضیا صاحب کی نماز جنازہ پڑھ کے آیا ہوں ذہن میں ابھی تک ایک آندھی سی چل رہی ہے۔
جب بھی کوئی عالم دین اس دنیا سے رخصت ہوتا ہے دل میں ایک عجب سی ہلچل پیدا ہو جاتی ہے یوں محسوس ہوتا ہے جیسے میری برادری کا بزرگ فوت ہو گیا ہو میری کوشش ہوتی ہے کہ مصروفیات ترک کر کے اس کے جنازہ میں شرکت کروں کئی دن اس عالم دین کی شخصیت میں ذہن کھویا رہتا ہے سوچتا ہوں یہ بندہ جو شیخ الحدیث کے منصب پر فائز تھا یقینا اس کے پیچھے برسوں کی محنت ہوگی اس نے علم حاصل کرنے کے لیے کتنی مشقتیں اٹھائی ہوں گی راتوں کو جاگ جاگ کر ڈھیروں کتب کا مطالعہ کیا ہوگا جب پہلی بار حدیث پڑھائی ہوگی پہروں جاگ کر اس کا مطالعہ کیا ہوگا مدرسہ سے فراغت کے بعد جذبات کیا ہوں گے پھر شادی مدرسہ کی محدود تنخواہ اور ڈھیروں ذمہ داریاں تدریسی مصروفیت تبلیغی ذمہ داریاں اہل علم سے تعلق بحال رکھنا لوگوں کے فقہی مسائل اور چبھتے ہوئے سوالات کتنے ہی مراحل ہیں جن سے گزرنا پڑتا ہے۔۔۔جب اسے سینیئر مدرس کہا جاتا ہے عمر ڈھل چکی ہوتی ہے بیماریاں آہستہ آہستہ وجود کی طرف بڑھ رہی ہوتی ہیں جی ہاں عمر خارزاروں کا سفر طے کرنے میں بسر ہوتی ہے طویل دشت نوردی جسم و جان کی قوت کو نچوڑ لیتی ہے کتنے شیوخ جو ہمارے سر کا تاج ہیں ان کے قدموں میں بیٹھنے کو دل چاہتا ہے کسمپرسی میں عمر گزار کے دنیا سے رخصت ہو جاتے ہیں اور لوگ جنازہ دیکھ کے کہتے ہیں قابل رشک جنازہ تو علماء کا ہے یقینا جینا اور مرنا علماء کا ہی ہے مگر دوران زندگی جب وہ کٹھن تپتے ہوئے صحرا کا سفر کر رہا ہوتا ہے تو اس کا حوصلہ بڑھانے اور تھپکی دینے والے ہاتھ بہت کم ہوتے ہیں کتنے شیوخ ایسے ہیں کہ جن کی وفات پر ہی پتہ چلتا ہے کہ وہ بھی اس دنیا میں موجود تھے شیخ عطاءاللہ ساجد صاحب رحمہ اللہ کی وفات کے بعد میں نے فیس بک پر ان کے بارے میں پڑھا پھر ان کی لکھی ہوئی سنن ابن ماجہ کی شرح نظر سے گزری مسائل پر کیا کمال کی گرفت تھی سوچ رہا تھا اگر انہیں کسی معروف ادارے میں پڑھانے کا موقع ملتا ان کے نام سے زمانہ واقف ہوتا گزشتہ دنوں میں شیخ المشائخ شارح سنن نسائی حافظ محمد امین حفظہ اللہ کہ ہاں شرف باریابی کے لیے حاضر ہوا تو دوران گفتگو شیخ عطا اللہ ساجد رحمہ اللہ کی شرح سنن ابن ماجہ پر گفتگو ہوئی معلوم ہوا کہ شیخ بھی ان کے مداحین میں شامل ہیں ہاں کتنے ہی ہیرے گمنام رہ کر مٹی میں سما گیےعلماء و شیوخ کا جنازہ دیکھ کر رشک کرنے والے اس راہ سے گزرنے کی خواہش کیوں نہیں کرتے جہاں وہ کمزور معیشت کے ساتھ ننگے پاؤں کانٹوں پر چلتا رہا۔بلا شبہ شیخ الحدیث مولانا عبدالرشید ضیا صاحب علم کے جس مقام پر فائز تھے وہاں پہنچنے کے لیےعمر بھر کی ریاضت کا لہو لگتا ہے اللہ ان کی مغفرت فرمائے
آسماں تیری لحد پر شبنم افشانی کرے
سبزۂ نورستہ اِس گھر کی نگہبانی کرے
تفصیل احمد ضیغم
علم حدیث سے معمور قابل رشک زندگی۔۔۔۔!
اور زندگی کے اختتام پہ سفر آخرت بھی قابل رشک۔
شیخ الحدیث مولانا عبدالرشید ضیاء مرحوم کی نماز جنازہ، تدفین/ علماء و،مشائخ کی بڑی تعداد کی شرکت۔
وسطی پنجاب کے معروف عالم دین، استاذ العلماء، شیخ الحدیث مولانا عبدالرشید ضیاء مرحوم کو آج بعد نماز ظہر یہاں سمندری روڈ فیصل آباد کے قبرستان میں علماء و اساتذہ اور مشائخ الحدیث کی دعاؤں کے ساتھ سپرد خاک کر دیا گیا۔ تدفین کے بعد مرحوم کی قبر پر شیخ الحدیث مولانا محمد ادریس اثری حفظہ اللہ(مہنتانوالہ) نے دعائے مغفرت کی۔
قبل ازیں شیخ الحدیث مولانا عبدالرشید ضیاء مرحوم کی نماز جنازہ یہاں جامع مسجد ابراھیم اھل حدیث، الائیڈ سٹی کمرشل، سمندری روڈ میں شیخ الحدیث مولانا حافظ مسعود عالم حفظہ اللہ کی اقتداء میں ادا کی گئی۔ یاد رھے کہ شیخ الحدیث مولانا ضیاء مرحوم گزشتہ شب فیصل آباد کارڈیالوجی میں بقضائے الہی وفات پاگئے تھے۔ جہاں انہیں گزشتہ روز قبل ظہر حرکت قلب کے عدم توازن کے علاج کے لئے داخل کیا گیا تھا۔
نماز جنازہ کے موقع پر جامعہ سلفیہ فیصل آباد کے پرنسپل پروفیسر چوھدری محمد یاسین ظفر حفظہ اللہ اور جامعہ تعلیم الاسلام ماموں کانجن کے ناظم مولانا عبدالرشید حجازی حفظہ اللہ، شیخ الحدیث مولانا حافظ مسعود عالم حفظہ اللہ نے حضرت الاستاذ ضیاء مرحوم کی تدریسی و دعوتی خدمات کو خراج تحسین پیش کیا۔
نماز جنازہ کے موقع پر یہاں الائیڈ سٹی کمرشل کی مسجد ابراھیم میں ایک بڑا اجتماع دیکھنے میں آیا۔ مسجد سے ملحق وسیع پارک میں بھی تاحد نگاہ شرکاء نماز جنازہ کی صفیں دکھائی دے رھی تھیں۔
بلا مبالغہ جنازہ کے 90 فیصد سے زائد شرکاء میں شیوخ الحدیث، علماء کرام، اساتذہ و طلبہ مدارس دینیہ اور احباب جماعت شامل تھے۔ اھل حدیث مکتب فکر کی جملہ تنظیمات کے ذمہ داران و کارکنان بلا تمیز تنظیم نماز جنازہ میں شریک ھوئے۔ جنازہ کے موقع پر ھمیں ایک قابل رشک منظر یہ دیکھنے کو ملا کہ قریب قریب ھر شخص کا چہرہ سنت رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے مزین نظر آیا۔
شیخ الحدیث مولانا عبدالرشید ضیاء مرحوم جڑانوالہ ضلع فیصل آباد کے نواحی گاؤں چک 24 میں پیدا ھوئے، بنیادی عصری تعلیم کے بعد دینی تعلیم کے حصول کے لئے جامعہ تعلیم الاسلام ماموں کانجن میں داخل ھوئے اور وھیں سے سند فراغت حاصل کی۔ جامعہ اشاعت العلوم عارفوالہ، جامعہ دعوہ سلفیہ ستیانہ بنگلہ، جامعہ تعلیم الاسلام ماموں کانجن میں تدریسی خدمات سرانجام دیتے رھے۔ اور پچھلے دو برس سے یہاں جامعہ سلفیہ فیصل آباد میں تدریس فرما رھے تھے۔ علاوہ ازیں شیخ الحدیث مرحوم مسجد الفردوس اھل حدیث گلبرگ سی میں خطبات کے فرائض بھی ادا کر رھے تھے۔
مرحوم کے اعزہ و اقارب کے ضمن میں یہ امر قابل ذکر ھے کہ شیخ الحدیث مولانا عبدالخالق مدنی (الکویت)، شیخ الحدیث مولانا قمر الزمان مدینی(سرگودھا)، شیخ الحدیث مولانا محمد ادریس اثری (مہنتانوالہ) مرحوم کے ھم زلف ھیں۔ فیصل آباد کے معروف عالم اور خطیب پروفیسر عمر فاروق صاحب، حضرت مرحوم کے برادر نسبتی ھیں۔
مرحوم نے اپنے پسماندگان میں بیوہ، تین بیٹے، ایک بیٹی اور سینکڑوں طلبہ و محبین کو سوگوار چھوڑا ھے۔
اللهم اغفر له وارحمه وعافه واعف عنه وأكرم نزله ووسع مدخله واغسله بالماء والثلج والبرد ونقه من الذنوب والخطايا كما ينقى الثوب الأبيض من الدنس. آمين
عبدالصمد معاذ
قابل رشک نماز جنازہ و اظہار تعزیت(مولانا ساجد الرحمان رحمہ اللہ)