سوال (6446)
ایک شوروم ہے، وہاں ایک لاکھ انویسٹ کرنے سے ہر ماہ سات ہزار ملتے ہیں تو کیا یہ صحیح ہے؟
جواب
نفع کی شرح تو فکس کی جاسکتی ہے کہ جتنا نفع ہوگا اس نفع کا دس، بیس،پچاس یا جتنا بھی طے کرنا چاہیں کرلیں۔ لیکن انوسٹ کردہ رقم کی شرح، یا ویسے رقم فکس کرکے لینا یہ خالص سود ہے۔
البتہ اگر وہ سات ہزار ہر ماہ دیتے رہیں لیکن سال کے آخر پر باقاعدہ حساب کرلیں تو صحیح ہے۔ مثال کے طور پر سات ہزار لیتے رہے تو سال کا 84 ہزار لے لیا۔ اب حساب کرنے ہر نفع اگر 90 ہزار بنتا ہے تو انوسٹر کو مذید چھ ہزار دیں، اسی طرح اگر نفع اسی ہزار بنتا تھا تو اس صورت میں 4 ہزار انوسٹر دینے کا پابند ہے۔
سوال میں جو صورت بیان کی گئی یہ تو نقصان میں شریک بنائے بغیر رقم(انوسٹمنٹ)کے بدلے فکس کرکے رقم یعنی سات ہزار ماہانہ لینا خالص سود ہے۔ ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب
فضیلۃ الباحث ابو زرعہ احمد بن احتشام حفظہ اللہ




