سوال (5901)
حضرت عمر کی ایک مجلس میں تین طلاقوں کو ایک قرار دینے کے حوالے سے کوئی حدیث ہے؟ وہ تو بھیج دیجیے۔
جواب
حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَمُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ وَاللَّفْظُ لِابْنِ رَافِعٍ قَالَ إِسْحَقُ أَخْبَرَنَا وَقَالَ ابْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ ابْنِ طَاوُسٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ کَانَ الطَّلَاقُ عَلَی عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبِي بَکْرٍ وَسَنَتَيْنِ مِنْ خِلَافَةِ عُمَرَ طَلَاقُ الثَّلَاثِ وَاحِدَةً فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ إِنَّ النَّاسَ قَدْ اسْتَعْجَلُوا فِي أَمْرٍ قَدْ کَانَتْ لَهُمْ فِيهِ أَنَاةٌ فَلَوْ أَمْضَيْنَاهُ عَلَيْهِمْ فَأَمْضَاهُ عَلَيْهِمْ، [صحیح مسلم: 3673]
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ اور ابوبکر ؓ اور دور خلافت عمر ؓ کے دو سال تک تین طلاق ایک ہی شمار کی جاتی تھیں سو عمر بن خطاب ؓ نے کہا اس حکم میں جو انہیں مہلت دی گئی تھی جلدی شروع کردی ہے پس اگر ہم تین ہی نافذ کردیں تو مناسب ہوگا چناچہ انہوں نے تین طلاق ہی واقعہ ہو جانے کا حکم دے دیا۔
یہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا اجتہاد تھا ایک خاص صورت، حالات کے پیش نظر۔ ان کے اس حوالے سے رجوع والی روایت بھی سندا ثابت نہیں۔
ہمارے سامنے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مرفوع واضح حدیث موجود ہے اسی کے مطابق فتویٰ دیا جائے گا۔ ھذا ما عندی واللہ اعلم باالصواب
فضیلۃ الباحث ابو زرعہ احمد بن احتشام حفظہ اللہ
سائل: اس بات کو آڑ بنا کر روافض ہمیں تنگ کرتے ہیں بہت، حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے حوالے سے، کوئی بہترین جواب سے رہنمائی درکار ہے۔
جواب: مناظرانہ طور پر تو بہت سی چیزیں بیان کی جاسکتی ہیں لیکن اختصار کے ساتھ جواب یہی ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کو ہم معصوم نہیں سمجھتے بلکہ مغفور و مرحوم سمجھتے ہیں۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنھم سے جو بھی بشری، اجتہادی خطائیں ہوئی اس کے باوجود اللہ ان سے راضی ہوگیا اور اللہ نے جنت کی بشارت دنیا میں ہی دے دی۔ اللہ کی رضا سب سے بڑی چیز ہے جو جنتیوں کو حاصل ہونی ہے جبکہ صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کو اللہ نے دنیا میں ہی عطا کردی۔
وَالسّٰبِقُوۡنَ الۡاَوَّلُوۡنَ مِنَ الۡمُهٰجِرِيۡنَ وَالۡاَنۡصَارِ وَالَّذِيۡنَ اتَّبَعُوۡهُمۡ بِاِحۡسَانٍ ۙ رَّضِىَ اللّٰهُ عَنۡهُمۡ وَرَضُوۡا عَنۡهُ وَاَعَدَّ لَهُمۡ جَنّٰتٍ تَجۡرِىۡ تَحۡتَهَا الۡاَنۡهٰرُ خٰلِدِيۡنَ فِيۡهَاۤ اَبَدًا ؕ ذٰلِكَ الۡـفَوۡزُ الۡعَظِيۡمُ ۞ [التوبة: 100]
اور جو مہاجرین اور انصار سابق اور مقدم ہیں اور جتنے لوگ اخلاص کے ساتھ ان کے پیرو ہیں اللہ ان سب سے راضی ہوا اور وہ سب اس سے راضی ہوئے اور اللہ نے ان کے لئے ایسے باغ مہیا کر رکھے ہیں جن کے نیچے نہریں جاری ہوں گی جن میں وہ ہمیشہ رہیں گے یہ بڑی کامیابی ہے۔ ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب
فضیلۃ الباحث ابو زرعہ احمد بن احتشام حفظہ اللہ




