سوال

ایک شخص فوت ہوا، جس کے ورثا میں درج ذیل لوگ ہیں:

ماں، حقیقی بیٹی، بیوہ، تین اخیافی بھائی، باپ کے چاچا زاد کے بیٹے

یہ ترکہ کیسے تقسیم ہو گا؟   اخیافی بھائیوں اور آخر میں  مذکور افراد(باپ کے چاچا زاد کے بیٹے) کا درجہ باپ کی جہت سے ایک جیسا ہے، یعنی جو اخیافی بھائی ہیں وہ باپ کے چاچا زاد کے بیٹے بھی ہیں۔

جواب

الحمد لله وحده، والصلاة والسلام على من لا نبي بعده!

ماں کا چھٹا حصہ، بیٹی کا آدھا حصہ، بیوی کا آٹھواں، جبکہ باپ کے چچا زاد کے بیٹوں کو بطور عصبہ بقیہ حصہ ملے گا۔

اخیافی بھائیوں کو وراثت میں حصہ صرف اس صورت میں ملتا ہے جب میت کی کوئی اولاد نہ ہو۔ زیر بحث صورت میں میت کی بیٹی موجود ہے۔ لہذا، اخیافی بھائیوں کو بطور اخیافی کوئی حصہ نہیں ملے گا۔ میت کے ورثاء میں بیوہ، ماں اور بیٹی شامل ہیں۔ ان کے حصوں کی ادائیگی کے بعد، باقی ماندہ مال حقیقی چچا کے بیٹوں کی اولاد کو بطور عصبہ مل سکتا ہے۔

اخیافی بہن بھائیوں کے لیے تین حالتیں ہیں:

1۔  اگر ان میں سے صرف ایک (بہن یا بھائی) ہو، تو اسے سدس (چھٹا حصہ) ملے گا۔

2۔  اگر دو یا دو سے زائد ہوں، تو انہیں ثلث ملے گا۔

3۔  ان کی تیسری حالت یہ ہے کہ  انہیں بطور عصبہ حصہ ملے گا لیکن اس کے لیے شرط ہے کہ میت کے اصول اور فروع موجود نہ ہوں۔ اگر اصول اور فروع موجود ہوں تو انہیں حصہ نہیں ملے گا جیسا کہ یہاں بیٹی موجود ہے۔

آسانی کے لیے کل مال کے چوبیس حصے بنائے جائیں گے، جس میں سے بیوہ کو تین حصے ملیں گے۔ والدہ کو چار، بیٹی کو نصف (بارہ حصے) ملے گا۔ باقی پانچ حصے بطور عصبہ میت کے باپ کے چچا کے بیٹوں کو دیے جائیں گے۔

خلاصہ یہ ہے کہ اخیافی بھائیوں کو بطور اخیافی بھائی یہاں کچھ نہیں ملے گا، البتہ دوسرے رشتے سے وہ بطو ر عصبہ شریک ہوں گے۔

وآخر دعوانا أن الحمد لله رب العالمين

مفتیانِ کرام

فضیلۃ الشیخ  ابو محمد عبد الستار حماد حفظہ اللہ

فضیلۃ الشیخ  محمد إدریس اثری حفظہ اللہ

فضیلۃ الشیخ مفتی عبد الولی حقانی حفظہ اللہ

فضیلۃ الشیخ عبد الحنان سامرودی حفظہ اللہ

فضیلۃ الشیخ ابو عدنان محمد منیر قمر حفظہ اللہ