سوال (5816)
“الحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ عَلَى كُلِّ حَالٍ مَا كَانَ، لَمْ يَجِدْ وَجَعَ الضِّرْسِ وَلَا أُذُنٍ أَبَدًا”
کیا یہ صحیح حدیث ہے؟ اس کا حوالہ مل سکتا ہے۔
جواب
یہ فضیلت ثابت نہیں۔
حَدَّثَنَا طَلْقُ بْنُ غَنَّامٍ قَالَ: حَدَّثَنَا شَيْبَانُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ خَيْثَمَةَ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: مَنْ قَالَ عِنْدَ عَطْسَةٍ سَمِعَهَا: “الحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ عَلَى كُلِّ حَالٍ مَا كَانَ”، لَمْ يَجِدْ وَجَعَ الضِّرْسِ وَلَا أُذُنٍ أَبَدًا، [الادب المفرد#926]
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا:جس نے چھینک سن کر کہا:ہر حال میں جیسا بھی ہے اللہ رب العالمین کا شکر ہے تو اسے کبھی داڑھ اور کان کا درد نہیں ہوگا۔
ابو اسحاق السبیعی (مدلس) کا عنعنہ ہے۔ سماع کی تصریح ثابت نہیں۔ سندہ ضعیف
اس فضیلیت کے علاوہ ویسے تو چھینک آنے پر “الحمدللہ علی کل حال ماکان” کہنا ثابت ہے۔
(ترمذی#2738, سندہ حسن)۔ ھذا ما عندی واللہ اعلم باالصواب
فضیلۃ الباحث ابو زرعہ احمد بن احتشام حفظہ اللہ
سوال: “الحمد للَّه رب العالمين على كل حال ما كان، لم يجد وجع ضرس ولا أذن أبدًا” کیا یہ روایت صحیح ہے؟
جواب: جی یہ روایت ضعیف منکر المتن ہے۔
ملاحظہ فرمائیں:
حدثنا طلق بن غنام قال: حدثنا شيبان عن أبي إسحاق عن حبة العرني عن علي قال: من قال عند كل عطسة يسمعها: الحمد للَّه رب العالمين على كل حال ما كان، لم يجد وجع ضرس ولا أذن أبدًا، مصنف ابن أبي شيبة: (31798)
الدعاء للطبرانی:(1988) میں بھی حبة عن علي ہے۔
مستدرک حاکم :(8273) میں بھی حبة عن علي ہے۔
مصنف ابن أبی شیبہ: (29811) کے کمال یوسف الحوت والے نسخہ میں خيثمة العربي ہے۔
اسی طرح الأدب المفرد للبخارى: (926) میں خيثمة عن علي ہے۔
الطب النبوي لأبي نعيم: (316، 329) میں خيثمة عن علي ہے۔
تحقیق: مصنف ابن أبی شیبہ کے محقق شیخ سعد بن ناصر الشثری نے اس سند میں تصحیح کرتے ہوئے حبة العرني لکھا ہوا ہے۔
جبکہ ابو اسحاق السبیعی کے شیوخ میں حبہ العرنی کا دور، دور تک کوئی ذکر موجود نہیں ہے نہ ہی اس راوی سے ان کی کوئی روایت ملی ہے۔
البتہ خيثمة بن عبد الرحمن الجعفی الکوفی راوی کا ان کے شیوخ میں نام موجود ہے اور ابو اسحاق السبیعی کی اس سے روایت بھی معروف و موجود ہے اور خیثمہ بن عبد الرحمن الجعفی کے تلامذہ میں بھی ابو اسحاق السبیعی کا نام موجود ہے۔
اسی طرح خیثمہ کے شیوخ میں سیدنا علی رضی الله عنہ کا نام موجود ہے اور سیدنا علی المرتضی رضی الله عنہ کے تلامذہ میں خیثمہ بن عبد الرحمن الجعفی کا نام موجود ہے اور ایک دو روایت میں بھی نام ملتا ہے۔
مثلا الجامع لأخلاق الراوي وآداب السامع :2/ 60 ،اور التاريخ الكبير للبخارى :3/ 215 کی روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ خیثمہ کو سیدنا علی رضی الله عنہ کی معیت حاصل ہے۔
اسی طرح اس روایت کی سند میں بھی الادب المفرد وغیرہ میں خيثمة کا نام موجود ہے۔
تو معلوم ہوتا ہے کہ راجح یہی راوی ہے حبہ العرنی نہیں کیونکہ ابو اسحاق السبیعی کے شیوخ میں حبہ العرنی کا کوئی ذکر نہیں ہے۔
اور یہ خیثمہ بن عبد الرحمن الجعفی ثقہ راوی ہے اور حبہ العرنی علی الراجح ضعیف راوی ہے۔
تو اگر ہم اس سند میں حبہ العرنی ہی تسلیم کر لیں تب بھی یہ روایت ضعیف ہے کیونکہ اس راوی کی کبار ائمہ علل ونقاد نے تضعیف کی ہے ۔
حکم ونتیجہ: یہ روایت ابو اسحاق السبیعی کے عنعنہ کے سبب ضعیف ،منکر المتن ہے۔
سیدنا علی المرتضی رضی الله عنہ کے کبار واخص ومکثر تلامذہ اس روایت کو بیان نہیں کرتے ہیں اور ایک ایسا راوی بیان کرتا ہے جو ایک دو غیر معروف غریب المتن روایت رکھتا ہے۔
اور یہ قوی قرینہ ہے اس روایت کے غیر محفوظ وخطا پر مبنی ہونے پر۔
پھر یہ متن اس مسئلہ کی صحیح احادیث کے مخالف ہے جنہیں ثقات نے بیان کیا ہے یوں یہ روایت اپنے اندر غرابت ونکارت بھی رکھتی ہے۔
ہمارے علم کے مطابق اس جیسی فضیلت پر مبنی کوئی روایت درجہ احتجاج کو نہیں پہنچتی ہے۔
چھینک آنے پر صحیح احادیث جو راہنمائی کرتی ہیں ان میں سے بعض ملاحظہ فرمائیں:
ﻋﻦ ﺃﺑﻲ ﻫﺮﻳﺮﺓ ﺭﺿﻲ اﻟﻠﻪ ﻋﻨﻪ، ﻋﻦ اﻟﻨﺒﻲ ﺻﻠﻰ اﻟﻠﻪ ﻋﻠﻴﻪ ﻭﺳﻠﻢ ﻗﺎﻝ: ﺇﺫا ﻋﻄﺲ ﺃﺣﺪﻛﻢ ﻓﻠﻴﻘﻞ: اﻟﺤﻤﺪ ﻟﻠﻪ، ﻭﻟﻴﻘﻞ ﻟﻪ ﺃﺧﻮﻩ ﺃﻭ ﺻﺎﺣﺒﻪ: ﻳﺮﺣﻤﻚ اﻟﻠﻪ، ﻓﺈﺫا ﻗﺎﻝ ﻟﻪ: ﻳﺮﺣﻤﻚ اﻟﻠﻪ، ﻓﻠﻴﻘﻞ: ﻳﻬﺪﻳﻜﻢ اﻟﻠﻪ ﻭﻳﺼﻠﺢ ﺑﺎﻟﻜﻢ، صحیح البخاری: (6224) ﺑﺎﺏ ﺇﺫا ﻋﻄﺲ ﻛﻴﻒ ﻳﺸﻤﺖ،
یہ حدیث مبارک کا قدر واضح ہے کہ چھینک مارنے والا الحمد لله کہے گا اور سننے والا مسلمان بھائی يرحمك الله کہے گا اور جواب میں چھینک مارنے والا ﻳﻬﺪﻳﻜﻢ اﻟﻠﻪ ﻭﻳﺼﻠﺢ ﺑﺎﻟﻜﻢ کے مبارک دعائیہ کلمات کہے گا۔
ﻋﻦ ﺃﺑﻲ ﻫﺮﻳﺮﺓ، ﻋﻦ اﻟﻨﺒﻲ ﺻﻠﻰ اﻟﻠﻪ ﻋﻠﻴﻪ ﻭﺳﻠﻢ ﻗﺎﻝ: ﺇﻥ اﻟﻠﻪ ﻳﺤﺐ اﻟﻌﻄﺎﺱ ﻭﻳﻜﺮﻩ اﻟﺘﺜﺎﺅﺏ، ﻓﺈﺫا ﻋﻄﺲ ﺃﺣﺪﻛﻢ ﻭﺣﻤﺪ اﻟﻠﻪ، ﻛﺎﻥ ﺣﻘﺎ ﻋﻠﻰ ﻛﻞ ﻣﺴﻠﻢ ﺳﻤﻌﻪ ﺃﻥ ﻳﻘﻮﻝ ﻟﻪ: ﻳﺮﺣﻤﻚ اﻟﻠﻪ۔۔۔ صحیح البخاری: (6226)
ﻋﻦ ﺃﺑﻲ ﻫﺮﻳﺮﺓ، ﻋﻦ اﻟﻨﺒﻲ ﺻﻠﻰ اﻟﻠﻪ ﻋﻠﻴﻪ ﻭﺳﻠﻢ، ﻗﺎﻝ: ﺇﺫا ﻋﻄﺲ ﺃﺣﺪﻛﻢ ﻓﻠﻴﻘﻞ اﻟﺤﻤﺪ ﻟﻠﻪ ﻋﻠﻰ ﻛﻞ ﺣﺎﻝ، ﻭﻟﻴﻘﻞ ﺃﺧﻮﻩ ﺃﻭ ﺻﺎﺣﺒﻪ ﻳﺮﺣﻤﻚ اﻟﻠﻪ، ﻭﻳﻘﻮﻝ ﻫﻮ ﻳﻬﺪﻳﻜﻢ اﻟﻠﻪ ﻭﻳﺼﻠﺢ ﺑﺎﻟﻜﻢ، سنن أبو داود: (5033) صحیح
یہی حدیث صحیح البخاری میں ہے مقصد یہ ہے کہ ہر حال میں صرف الحمد لله ہی کہنا ہے کہ یہی تعلیم مصطفی صلی الله علیہ وسلم اور سنت ہے۔
خطباء حضرات کو چاہیے کہ ابھی طرح مطالعہ وتحقیق اور تدبر وتفکر کے بعد ہی کسی روایت کو بیان کریں کیونکہ لوگوں کا اعتماد آپ پر ہے اور آپ پر فرض ہے کہ صرف صحیح احادیث بیان کریں اور ضعیف ومنکر روایات کے بیان کرنے سے اجتناب کریں جب ایک مسئلہ پر واضح اور صحیح احادیث وتعلیمات موجود ہیں تو پھر اس طرح کی غریب وعجیب ومنکر المتن روایات بیان کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔
هذا ما عندي والله أعلم بالصواب
فضیلۃ العالم ابو انس طیبی حفظہ اللہ
کیا ایسا بھی کچھ ہے؟ کہ غیر مسلم کو یہاں يهديكم الله ويصلح بالكم کہا جائے گا اور مسلم کو یغفر اللہ لنا و لکن
فضیلۃ الشیخ نعیم راشد حفظہ اللہ
غیر مسلم چھینک مارے تو اس کو یرحمک اللہ نہیں کہنا ہے، بلکہ “یھدیکم اللہ” ہے۔
فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ




