سوال (6544)
علی (رضی اللہ عنہ) کے دروازے کے علاوہ سب دروازے بند کردو:
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنھما فرماتے ہیں:
أَمَرَ يَسُدَّ الأَبْوَابَ إِلَّا بَابَ عَلِيٍّ،
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے علی رضی اللہ عنہ کے دروازے کے سوا مسجد میں کھلنے والے تمام دروازے بند کرنے کا حکم دیا۔ سنن الترمذی: 3732، قال الالبانی: صحیح
پہلے سنا کرتے تھے کہ یہ ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کےلئے کہا تھا آج یہ روایت نظر سے گزری تو درست کیا ہے؟
جواب
یہ لنک ملاحظہ کریں:
شبهات رامي عيسي https://www.ramy-essa.com/shobohat/shobha.aspx?shobohat=267
فضیلۃ الشیخ عبدالوکیل ناصر حفظہ اللہ
فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ
فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 3732
مناقب ابی بکر رضی اللہ عنہ میں یہ حدیث گزری کہ ”نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوبکر رضی اللہ عنہ کے دروازے کے سوا مسجد نبوی میں کھلنے والے سارے دروازوں کو بند کر دینے کا حکم دیا“ ان دونوں حدیثوں کے درمیان بظاہر نظر آنے والے تعارض کو اس طرح دور کیا گیا ہے، کہ شروع میں مسجد میں کھلنے والے تمام دروازے سوائے علی کے بند کر دینے کا حکم ہوا، تو لوگوں نے دروازے بند کر کے روشن دان کھول لیے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے مرض کے ایام میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوبکر رضی اللہ عنہ کے روشن دان کے سوا سارے لوگوں کے روشندان بند کر دیے، (یہ روشندان اوپربھی ہوتے تھے اور نیچے بھی، نیچے والے سے لوگ آمد و رفت بھی کرتے تھے، مسجد کی طرف دروازوں کے بند ہو جانے کے بعد مسجد میں آنے جانے کے لیے لوگوں نے استعمال کرنا شروع کر دیا تھا، (کَمَا فِيْ کُتُبِ مشکلِ الْحَدِیْث)
فضیلۃ العالم عبداللہ عزام حفظہ اللہ
سیدنا علی رضی الله عنہ کے متعلق جو روایت ہے وہ غیر محفوظ ہے۔
فضیلۃ العالم ابو انس طیبی حفظہ اللہ




