سوال
سمیرا بی بی اور ارشاد بی بی دو علاتی بہنیں ہیں، یعنی ان کا والد ایک ہے اور مائیں الگ الگ ہیں۔ ارشاد کی بیٹی ہے ثمرین۔ ایک شخص محمد ارشد نے سمیرا سے نکاح کیا ہوا تھا اور بعد میں اس کی بھانجی ثمرین سے بھی نکاح کر لیا، کیا یہ نکاح درست ہے؟
جواب
الحمد لله وحده، والصلاة والسلام على من لا نبي بعده!
یہ نکاح درست نہیں، کیونکہ بھانجی اور اس کی خالہ کو ایک شخص کے نکاح میں جمع کرنا جائز نہیں۔
نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
“لَا يُجْمَعُ بَيْنَ الْمَرْأَةِ وَعَمَّتِهَا، وَلَا بَيْنَ الْمَرْأَةِ وَخَالَتِهَا”.
“کسی عورت کو اس کی پھوپھی یا اس کی خالہ کے ساتھ (ایک ہی شخص کے نکاح میں) جمع نہ کیا جائے”۔ [صحیح البخاری: 4820، صحیح مسلم: 1408]
اس بات سے فرق نہیں پڑتا کہ دونوں بہنیں حقیقی ہوں یا علاتی ہوں یا اخیافی۔جیسا کہ دو بہنوں کے درمیان جمع جائز نہیں اگرچہ وہ بہنیں عینی، علاتی یا اخیافی ہوں۔
لہذا یہ نکاح بالکل باطل ہے، ارشد اور ثمرین کے درمیان فورا علیحدگی ضروری ہے، اور انہیں اس گناہ پر صدق دل سے توبہ کرنی چاہیے۔
وآخر دعوانا أن الحمد لله رب العالمين
مفتیانِ کرام
فضیلۃ الشیخ ابو محمد عبد الستار حماد حفظہ اللہ
فضیلۃ الشیخ مفتی عبد الولی حقانی حفظہ اللہ
فضیلۃ الشیخ محمد إدریس اثری حفظہ اللہ
فضیلۃ الشیخ عبد الحنان سامرودی حفظہ اللہ
فضیلۃ الشیخ ابو عدنان محمد منیر قمر حفظہ اللہ
فضیلۃ الدکتور عبد الرحمن یوسف مدنی حفظہ اللہ




