سوال (5842)

نماز میں جو دعا، التحیات للہ ۔۔۔ پڑھی جاتی ہے کیا اس کا تعلق واقعہ معراج کے ساتھ ہے؟

جواب

نماز میں تشہد پڑھنے کی نسبت واقعہ معراج سے کی جاتی ہے، اس پر ایک تحریر معروف ہے جس میں تشہد کا طویل پس منظر بیان کیا گیا ہے۔ لیکن یہ بے سند جھوٹی تحریر ہے، غیرثابت ہے۔
ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فضیلۃ الباحث ابو زرعہ احمد بن احتشام حفظہ اللہ

سائل: شیخ محترم کیا وہ مل سکتی ہے اور اس کی تحقیق کے بارے میں بھی کوئی تحریر ہو تو وہ بھی؟
جواب: معراج نبوی کے واقعہ کو تشہد کی اصل حقیقت قرار دینا بے بنیاد بات ہے، شریعت میں اس کا کوئی تصور نہیں ہے۔ دائمی فتوی کمیٹی کے علمائے کرام سے پوچھا گیا:
“جو تشہد ہم نماز میں پڑھتے ہیں، کیا یہ وہی تشہد ہے جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے شب معراج کو سدرۃ المنتہی کے پاس سجدہ کی حالت میں پڑھا تھا؟
تو انہوں نے جواب دیا: ” ابن مسعود رضی الله عنہ سے مروی ہے:” رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے تشہد سکھایا اس وقت میرا ہاتھ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی دونوں ہتھیلیوں کے درمیان میں تھا بالکل اسی طرح جیسے آپ مجھے قرآن کی سورت سکھا رہے ہوں:

” اَلتَّحِيَّاتُ لِلَّهِ وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّيِّبَاتُ السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ السَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ “

تمام زبانی، بدنی، اور مالی عبادات اللہ تعالی کیلیے ہیں، اے نبی! آپ پر اللہ تعالی کی جانب سے سلامتی، رحمتیں، اور برکتیں نازل ہوں، ہم پر اور اللہ تعالی کے تمام نیک بندوں پر سلامتی نازل ہو، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود بر حق نہیں ہے، اور میں یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ محمد -ﷺ-اللہ تعالی کے بندے اور رسول ہیں۔
اس حدیث کو متعدد محدثین نے روایت کیا ہے۔
اور ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں کہ: نبی صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا:(جب تم میں سے کوئی نماز میں قعدہ کیلیے بیٹھے تو وہ یہ پڑھے: ” اَلتَّحِيَّاتُ …. “اور پھر مکمل تشہد کی سابقہ دعا ذکر کی، اور اس میں یہ اضافہ بھی ہے کہ جب نمازی: ” وَعَلَى عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ “[اور اللہ کے صالح بندوں پر سلام ہو] پڑھے تو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (اگر تم نے یہ پڑھ لیا تو آسمان اور زمین میں اللہ کے تمام صالح بندوں پر سلام پڑھ دیا)، اور اسی روایت کے آخر میں فرمایا کہ: (پھر اپنے لیے جو چاہے اللہ تعالی سے مانگ لے) (متفق علیہ)
نیز امام احمد نے اس حدیث کو ابو عبیدہ سے، وہ اپنے والد سے، اور وہ عبد اللہ بن مسعود رضی الله عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں تشہد سکھایا اور لوگوں کو مکمل تشہد سکھانے کا حکم بھی دیا۔
امام ترمذی کہتے ہیں: ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی حدیث تشہد کے بارے میں سب سے زیادہ صحیح حدیث ہے، اکثر صحابہ، تابعین اور اہل علم کا اس پر عمل ہے۔
اور امام ابو بکر بزّار کہتے ہیں:
تشہد کے باب میں صحیح ترین حدیث یہی ہے، مزید کہا کہ: اس حدیث کو بیس سے زائد سندوں سے روایت کیا گیا ہے، اور اسی بات کی تائید امام بغوی نے اپنی کتاب “شرح السنة” میں کی ہے”
مندرجہ بالا تفصیل سے یہ معلوم ہوا کہ رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت شدہ روایات میں یہی تشہد صحیح ترین ہے۔
لیکن یہ کہنا کہ: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے شب معراج میں سدرۃ المنتہی کے پاس حالتِ سجدہ میں اس تشہد کو پڑھا مجھے اس بارے میں علم نہیں ہے، یہ بالکل بے بنیاد بات ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے معراج کی رات سدرۃ المنتہی کے پاس سجدہ کیا تھا”
شیخ عبد العزیز بن باز، شیخ عبد الرزاق عفیفی ، شیخ عبد الله بن غدیان، شیخ عبد الله بن قعود۔
“فتاوى اللجنة الدائمة ” ( 7 / 6 -7 )
ان تمام باتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ غیر ثابت شدہ، یا بدعتی افکار و نظریات وغیرہ پر مشتمل مضامین اور پیغاموں کو شرعی طور نشر کرنا صحیح نہیں ہے، بلکہ کوئی بھی پیغام آگے بھیجنے سے پہلے اس بات کا اطمینان کر لیں کہ اس میں بیان شدہ تمام چیزیں ثابت اور صحیح ہیں۔
اس بارے میں حفص بن عاصم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
(کسی بھی شخص کے جھوٹے ہونے کیلیے یہی کافی ہے کہ وہ ہر سنی سنائی بات آگے بیان کر دے)

فضیلۃ الباحث کامران الٰہی ظہیر حفظہ اللہ