سوال (6594)
ایک مؤدبانہ سوال ہے کہ کیا یہ بات کسی صحیح یا حسن سند سے ثابت ہے کہ سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے دور میں کسی لشکر نے اصحابِ کہف کے غار کی طرف سفر کیا تھا اور حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے اس میں داخل ہونے سے منع فرمایا تھا؟ اس بارے میں اہلِ سنت کا راجح موقف کیا ہے؟ جزاکم اللہ خیراً۔
جواب
جی ہاں، یہ روایت مصنّف ابن ابی شیبہ اور بعض تفاسیر میں ذکر کی گئی ہے۔ ہمیں اس پر کوئی صریح جرح نہیں ملی، البتہ بہرحال یہ واقعہ معتبر کتابوں میں موجود اور منقول ہے۔
أن معاوية غزا الروم فمر بالكهف فقال لو كُشِفَ لنا عن هؤلاء فنظرنا إليهم فقال ابن عباس ليس ذلك لك، خلاصة حكم المحدث: إسناده صحيح،
الراوي/ عبداللہ بن عباس حدث: ابن حجر العسقلانی الكافي المصدر: الشاف الصفحة یا الرقم: 174 التخريج: أخرجه الواحدي في (الوسيط) (563) واللفظ له، وذكره ابن أبي حاتم (12720) بنحوه مطولا التصنيف الموضوعي: إيمان- فضل الإيمان تفسير آيات- سورة الكهف إيمان- فضل الإيمان بالغیب فضائل سورۃ وآیات سورة الكهف /احاديث مشابهة /شرح حدیث
فضیلۃ الشیخ عبدالوکیل ناصر حفظہ اللہ




