سوال 6779
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
سوال رسول، نبی معصوم ہوتے ہیں یعنی ان سے کوئی غلطی نہیں ہو سکتی دوسری طرف قرآن میں آدم علیہ السلام سے خطا کا تذکرہ کیا گیا اس کے بعد حدیث میں نبی ﷺ اپنے گناہوں کی معافی مانگ رہے ہیں ذرا اس بارے میں سمجھا دیں؟
جواب
وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
انبیاء معصوم ہیں، اس میں کوئی شک نہیں۔ اس اعتبار سے کہ وہ قصداً و ارادۃً خطا و نافرمانی نہیں کرتے۔ آدم علیہ السلام کے بارے میں بھی اللہ نے کہا “وَلَمْ نَجِدْ لَهُ عَزْمًا” اور اس سے پہلے کہا “نَسِيَ”۔ آدم بھول گئے تھے، قصداً و ارادۃً انہوں نے ایسا نہیں کیا۔ تو اگر ایک مسٹیک ہو گئی، تو اس کی وجہ سے آپ انہیں معصوم کہنا چھوڑ دیں گے؟ قابلِ غور بات ہے، اس پہ غور کریں۔
فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ
السلام علیکم ورحمۃ اللہ۔
شیخنا، بڑی پیاری توجیہ آپ نے فرمائی ہے۔ میں اس میں ایک اضافہ کرنا چاہوں گا۔ کہ انبیاء کو معصوم عن الخطا کہنے کے حوالے سے تین باتیں ذہن میں رکھیں:
۱. ایک بات تو آپ نے بیان فرمائی۔
۲. دوسری یہ کہ انبیاء سے سہواً بھی کبیرہ گناہ سرزد نہیں ہوتا۔ یعنی انبیاء بھول کر بھی کبیرہ گناہ نہیں کرتے۔
۳. تیسری بات یہ کہ نبی سے چھوٹے موٹے امور سہواً سرزد ہو جاتے ہیں، لیکن اللہ تعالیٰ فوراً ان کی اصلاح فرماتے ہیں۔
مثال کے طور پر: آدم علیہ السلام کی اصلاح اللہ تعالیٰ نے فرمائی۔ سیدنا نوح علیہ السلام نے اپنے نالائق بیٹے کے لیے دعا کی، اللہ تعالیٰ نے ڈانٹ کر فوراً اصلاح فرمائی۔
سیدنا یونس علیہ السلام سہواً بستی چھوڑ گئے، اللہ تعالیٰ نے مچھلی کے پیٹ میں قید کر کے فوراً اصلاح فرمائی۔
کائنات کے امام صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے غزوہ بدر کے موقع پر صدیقِ کائنات رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے مشورے پر عمل کیا، اور فاروقِ اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے مشورے کو نظر انداز کرتے ہوئے قیدیوں کو مالِ فدیہ لے کر چھوڑنے کا فیصلہ صادر فرمایا اور اس پر عمل بھی فرمایا، جس پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
“مَا كَانَ لِنَبِیٍّ اَن يَّكُوۡنَ لَہٗ اَسۡرٰی حَتّٰی يُثۡخِنَ فِی الۡاَرۡضِ”۔
لہذا، میں امید کرتا ہوں کہ یہ تین نکات:
۱. نبی قصداً کبھی بھی غلطی نہیں کرتے،
۲. نبی سہواً بھی کبیرہ گناہ نہیں کرتے،
۳. چھوٹے موٹے امور سہواً ہو جاتے ہیں اور اللہ تعالیٰ فوراً اصلاح فرماتے ہیں،
یہ سب آپ کی بیان کردہ بات پر ایک مفید اضافہ ہیں۔ یقیناً آپ سمجھ گئے ہوں گے کہ اس میں کوئی استدراک نہیں ہے۔
بارک اللہ فیکم۔
فضیلۃ الشیخ عبدالرزاق زاہد حفظہ اللہ




