سوال 6978
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
کیا عقیقہ میں بیل حلال کر کے سات حصّے کیے جا سکتے ہیں؟
جواب
وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ و برکاتہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عقیقہ کے لیے چھوٹے جانور ذبح کیے ہیں۔ لہٰذا عقیقہ کے لیے بڑا جانور ذبح نہیں کیا جا سکتا۔ ہاں شریعت یہ رخصت ضرور دیتی ہے کہ قربانی والی شرطیں عقیقے والے جانور میں نہیں پائی جاتی، کوئی شرط نہیں۔
فضیلۃ الشیخ عبدالرزاق زاہد حفظہ اللہ
وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
سنت یہ ہے کہ عقیقہ میں بکری ہی ذبح کی جائے.
بچے کی طرف سے دو اور بچی کی طرف سے ایک۔
[ابوداود: 2842، سندہ، حسن]
البتہ بڑے جانور کا عقیقہ کرنے کا جواز موجود ہے.
ابن ابی شیبہ
کتاب: عقیقے کا بیان
باب: جو لوگ اونٹنی کو عقیقہ میں ذبح کرتے ہیں
حدیث نمبر: 24754
أَنَّ أَنَسَ بْنَ مَالِکٍ کَانَ یَعُقُّ عَنْ وَلَدِہِ بِالْجُزُرِ۔
ترجمہ:
حضرت حسن سے روایت ہے کہ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ اپنے بچوں کی طرف سے اونٹ کو عقیقہ میں ذبح کرتے تھے۔ سندہ، حسن
تنبیہ:
جس طرح قربانی میں اونٹ کے ساتھ حصہ ہوتے ہیں، ایسے عقیقہ کرتے وقت شراکت قطعاً جائز نہیں، لڑکے کی طرف سے دو اونٹ ذبح کریں۔ لیکن بہتر عمل ہے کہ سنت پر عمل کریں اور بکری ہی کا عقیقہ کریں,بڑے جانور کی نسبت
لیکن جواذ کا انکار تو نہیں.
تنبیہ:
عقیقہ فقط ساتویں دن ہے اس سے پہلے یا بعد میں عقیقہ کرنا ثابت نہیں۔
ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب
فضیلۃ الباحث ابو زرعہ احمد بن احتشام حفظہ اللہ



