سوال (6568)

ایک بندے نے مجھ سے سوال کیا ہے کہ اگر غیر اللہ کے نام پہ کھانا حرام ہے تو بچے کا عقیقہ تو بچے کے نام پہ ہوتا ہے تو یہ حرام کیوں نہیں ہے، وضاحت فرمائیں؟

جواب

جب ہم کہتے ہیں کہ غیر اللہ کے نام پر کھانا حرام ہے تو اس سے مراد کیا ہے؟ کس کے نام کا کس کو راضی کرنے کے لیے یہ جانور ذبح کیا گیا ہے یا کس کو راضی کرنے کے لیے کھانا دیا گیا ہے بچے کے نام کا عقیقہ ہوتا ہے لیکن اس میں رضامندی اللہ کی مقصود ہوتی ہے لہذا یہ کہنا کہ عقیقہ اور قبر پر چڑھاوا ایک برابر ہے یہ بالکل غلط ہے قبر پر چڑھاوا چڑھایا جاتا ہے، قبر میں فوت شدہ مردے کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے قبر میں دفن شدہ شخص کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے جو کہ صریح شرک ہے اور اس پر باقاعدہ طور پر احادیث میں ابواب بھی موجود ہیں کہ غیر اللہ کے نام کا جانور ذبح کرنا حرام ہے، اصل میں ہوتا یہ ہے کہ لوگ اپنے خود ساختہ نظریات کو خود ساختہ عقائد کو فروغ دینے کے لیے اس قسم کے عذر تلاش کرتے ہیں۔

فضیلتہ الشیخ عبدالرزاق زاہد حفظہ اللہ