سوال (6507)

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔
سوال یہ تھا میں نے آپ کو سکرین شاٹ بھیجی ہے۔ یہ لفظ پر نشان بھی لگایا ہوا ہے۔ یہ میں تلاوت سن رہا تھا تو یہ جس لفظ (سلسلا) پر میں نے نشان لگایا ہے، اس پر وہ شیخ صاحب نے مدہ نہیں کی۔ تو یہ پوچھنا تھا کہ اس پر مدہ کیوں نہیں کی؟ ذرا اس کا قاعدہ سمجھا دیں، کیا قاعدہ ہے اس کا؟

جواب

وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
اسے ’صفرِ مستطیل‘ کہا جاتا ہے، جو کہ بیضوی شکل کا ایک نشان ہوتا ہے۔ یہ مکمل گول ہونے کے بجائے انڈے کی مانند دکھائی دیتا ہے۔ تجوید کا قاعدہ یہ ہے کہ ’وصل‘ (ملا کر پڑھنے) کی صورت میں اسے نہیں پڑھا جائے گا، جیسے:

’لِلْکَافِرِیْنَ سَلَاسِلَا وَاَغْلَالاً‘۔

تاہم، اگر یہاں ’وقف‘ (رکنے) کی صورت اختیار کی جائے تو پھر اسے پڑھا جائے گا، جیسے:

’لِلْکَافِرِیْنَ سَلَاسِلَا‘۔

یہ قواعدِ تجوید کی کتب میں دیکھا جا سکتا ہے۔ واضح رہے کہ اس کا تعلق ’مد‘ کی بحث سے نہیں ہے، بلکہ یہ ’صفرِ مستطیل‘ کا ایک الگ قاعدہ ہے۔
یہ اس کی مثالیں ہیں:

1. اَنَاْ، 2. سَلَاسِلَاْ، 3. سَلْسَبِيلَاْ، 4. قَوَارِيرَاْ، 5. السَّبِيلَاْ، 6. الظُّنُونَاْ، 7. أَلرِّسولَاْ،
الصفر المستطیر القائم

فضیلۃ الشیخ عبدالوکیل ناصر حفظہ اللہ