سوال 6850
یہ جو پہلے عشرے کی مخصوص دعا بیان کی جاتی ہے، یا روزے کی کوئی خاص نیت، اور اسی طرح روزہ کھولنے (افطار) کی مخصوص نیت کے بارے میں جو الفاظ مشہور ہیں، کیا ان کے بارے میں کچھ معلومات ہیں؟ کیا یہ چیزیں احادیث سے ثابت ہیں؟ براہِ کرم اس حوالے سے کچھ رہنمائی فرمائیں۔
جواب
جس روایت میں عشروں کی تقسیم وہ بے، اصل و منکر ہے،
رب العالمین کی مغفرت وبخشش اور رحمت کے لئے کوئی دن، ہفتہ، عشرہ، مہینہ خاص نہیں ہے، رمضان کے مہینے میں رحمت، بخشش، جہنم سے آزادی سب کچھ حاصل کر سکتے ہیں، شرط یہ ہے کہ توحید و ایمان اور اخلاص کے ساتھ عبادت ،ذکر و شکر ،تلاوت و صدقہ کا اہتمام ہو، حقوق العباد کا خیال رکھا گیا ہو اور گناہوں سے ہجرت اختیار کی گئی ہو۔
نیت کا محل دل ہے۔ نیت کے کوئی الفاظ قرآن وحدیث میں بیان نہیں ہوے نہ ہی نیت کا تعلق زبان کے ساتھ ہے۔
فضیلۃ العالم ابو انس طیبی حفظہ اللہ
عاشورے کی تقسیم والی روایت صحیح نہیں ہے۔ اس کی دعائیں بھی پائے ثبوت کو نہیں پہنچتیں۔ جب تقسیم ہی ثابت نہیں ہے تو پھر آگے کیا؟
اور یہ نیت کے الفاظ بھی حدیث سے ثابت نہیں ہیں۔
فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ




