سوال (5438)
خاتون ایک گورنمنٹ ٹیچر تھی۔ نوکری کے کاغذات میں بھی خاتون نے اپنے سارے واجبات اپنی بیٹی کے نام ہی لکھے تھے، اب آپ یہ رہنمائی فرما دیں کہ ان Benifits میں دوسرے شوہر اور بیٹے کا حق بنتا ہے یا نہیں، خاتون اپنی بہن سے ذکر کرتی تھی کہ میں جو کچھ بھی کر رہی تھی کہ میں جو ہوں اپنی یتیم بچی کے لیے کر رہی ہوں. میرا دوسرا شوہر کا جو بچہ ہوگا وہ اپنے باپ کی ذمے داری ہوگا،
اب ہر مہینے اکاؤنٹ میں جو رقم آتی ہے، نہیں اس میں شوہر اور بیٹے کا حق بنتا ہے؟
جواب
جو پینشن کی رقم ہوتی ہے وہ عموما ایمپلائر یعنی کمپنی کی طرف سے مخصوص بندوں کو دی جاتی ہے مثلا شوہر کے بعد اسکی بیوی پھر بیوی کے بعد اسکے بچوں میں (بیٹا 21 سال سے چھوٹا یا بیٹی غیر شادی شدہ وغیرہ)
پس جو رقم کمپنی دے گی وہ جس کو دے گی وہی اسکا مالک ہو گا کیونکہ یہ پہلے سے طے شدہ ہوتا ہے
اور یہ بات اچھی طرح یاد رکھ لیں کہ یہ پینش اس فوت ہونے والی ملازم کی پراپرٹی نہیں ہوتی کہ اکے وارثوں میں تقسیم کی جائے بلکہ یہ کمپنی اس ملازم کے خٓص بندوں کے خرچے کے لئے مہنا کرتی ہے پس ان بندوں کے علاوہ کسی کا اس پہ شرعی حق نہیں ہوتا ہے
پس میرے علم کے مطابق جس بچی کے اکاونٹ میں پیسے آتے ہیں وہی اس کی حقدار ہے کیونکہ اسکی ماں کی یہ جائیداد ہی نہیں ہے کہ اس کے نئے بیٹے یا نئے شوہر کو حصہ دیا جا سکے۔ واللہ اعلم بالصواب
فضیلۃ العالم ارشد حفظہ اللہ




