سوال (6419)

میرا سوال یہ ہے کہ کیا ایک عورت ڈاکٹر/نرس کا پیشہ اختیار کر سکتی ہے،ہسپتال میں مرد ڈاکٹر اور مریض بھی ہوتے ہیں، جبکہ وہ باقاعدہ پردہ بھی کرتی ہو؟ اور کیا ایسی عورت سے شادی کرنا جائز ہے یا نہیں جو ڈاکٹر یا نرس کی سرکاری نوکری کرتی ہو؟ قرآن و حدیث کی روشنی میں جواب دیں۔

جواب

جی ہاں، حدیث کے مطابق جو بھی اپنے دینی بھائی کو نفع پہنچا سکتا ہے، اس کو چاہیے کہ نفع پہنچا دے، حکمت، طب اور ڈاکٹری کا پیشہ جائز ہے، جس طرح مردوں کے لیے جائز ہے، اس طرح عورتوں کے لیے جائز ہے، اگرچہ عورتیں ہمیں بہت کم مطلوب ہوتی ہیں، عورت کا اصل معاملہ گھر، بچوں اور رشتے داروں کے ساتھ ہے، اگر کوئی اس سطح پر پہنچ گئی ہے، وہ دین دار ہے، شادی تو عقیدے اور عمل کی بنا پر کی جاتی ہے، پیشے سے کیا مسئلہ ہے، اس کے لیے جائز ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں کے لیے جہاد کو لازم نہیں کہا، ان کے حج کو جہاد کہا ہے، مگر مرہم پٹی مریضوں کی دیکھ بھال کے لیے امھات المومنین اور عورتیں جاتی تھی، تو چادر، چار دیواری کا لحاظ رکھتے ہوئے، بطور مجبوری مرد و عورت ایک دوسرے کا علاج کر سکتی ہیں، ورنہ عورت عورت کا علاج کر سکتی ہے، اس میں کوئی حرج نہیں ہے، خوش نصیبی ہوگی اگر ایسی عورت ہے جو دیندار ہو، وہ کسی کو ملے، جو دنیا کے ساتھ دین کا بیڑا اٹھائے۔

فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ