سوال   6622

السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ
میں ایک کیمیکل انجینئر ہوں اور مجھے ابھی ایک ملٹی نیشنل کمپنی سے جاب کی آفر آئی ہے جو نہایت مناسب اور میری ضرورتوں کے عین مطابق ہے۔ میں ابھی بھی ایک دوائیں بنانے والی کمپنی میں کام کرتی ہوں۔ لیکن کچھ وجوہات کی بناء پر میں وہاں مطمئن نہیں ہوں اور وہ جاب چھوڑنا چاہتی ہوں۔
Phillip Morris International فیلیپ موریس انٹرنیشنل
ایک سگریٹ بنانے والی کمپنی ہے
پاکستان میں اب یہ کمپنی دھوئیں سے پاک سگریٹ جسے نیکوٹین پاؤچ بنانے پہ بھی کام کر رہی ہے جو نسبتاً کم مضر صحت ہیں ۔
میرا کام یا زمہ داری وہاں کے ورکرز کی حفاظت اور ماحول کی حفاظت سے متعلق ہے جس سے مراد یہ ہے کہ وہ فیکٹری جہاں سب تیار ہو رہا ہے وہاں کسی انسان یا مشینوں کو کوئی نقصان نہیں پہنچے اور اطراف کے علاقوں میں ماحول یعنی ہوا اور پانی صاف ستھرا رہے۔ اس ڈیپارٹمنٹ کو سیفٹی اور سسٹین ابیلٹی (safety and sustainability)
کہا جاتا ہے۔ میرا سوال یہ ہے کہ کیا یہ نوکری اور اس سے آنے والی آمدن حلال ہے؟

جواب

وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
عورت کی نوکری صرف مجبوری کی حالت اور محدود دائرے میں جائز ہے۔ ہمارے ہاں دین کے مطابق اسے اپنی ذمہ داریوں، عقیدے، عمل، تعلیم، تربیت، اولاد اور خاندان کی دیکھ بھال کو ترجیح دینی چاہیے۔
اگر ضرورت کے تحت نوکری یا کاروبار کیا جائے تو یہ جائز ہے، لیکن ضرورت کا مطلب یہ نہیں کہ خواہشات کے دروازے کھل جائیں۔ ایسی فیکٹری یا جگہ میں کام جائز نہیں ہوگا جہاں حرام کا وسیلہ شامل ہو، کیونکہ حرام کا حصہ لینا بھی حرام کے زمرے میں آتا ہے۔
یہ نہیں کہا جا سکتا کہ “کم نقصان دہ” ہے، کیونکہ چاہے جتنا بھی تاویل کریں، نشہ یا ناجائز کام موجود ہے۔ ہماری تحقیق اور اہل علم کے فتوے اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ ایسی جگہ کام کرنا جائز نہیں، کیونکہ وہاں ناجائز عمل ہو رہا ہے۔

فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ