سوال 6936
عورتوں کے لیے گھر کی مسجد میں اعتکاف کرنا نہ صرف جائز ہے بلکہ یہی بہتر ہے کہ گھروں کی مسجد میں اعتکاف کریں اور گھر کی مسجد سے مراد وہ جگہ ہے جسے گھر میں نماز، ذکر، تلاوت اور دیگر عبادات کے لیے خاص اور متعین کرلیا گیا ہو، باقی اگر عورت مسجدِ شرعی میں اعتکاف کرے (جب کہ پردے اور دیگر شرعی احکامات کی مکمل رعایت ہو) تو اعتکاف تو ہوجائے گا، لیکن یہ مکروہ ہے۔
موجودہ زمانہ فتنہ وفساد کا زمانہ ہے، مساجد میں مردوں سے اختلاط کا قوی اندیشہ ہے، بے حیائی بھی عام ہے، اس لیے موجودہ زمانہ میں جس طرح مسجد میں عورتوں کا نماز کے لیے آنا مکروہ تحریمی ہے، اسی طرح مسجد میں اعتکاف کرنا بھی مکروہ تحریمی ہے۔
حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے زمانے میں تمام صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی موجودگی میں عورتوں کو مسجد میں آنے سے منع کیا گیا اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے خود فرمایا کہ آج حضور ﷺ ہوتے تو آپ خود عورتوں کو روک دیتے، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا آپ ﷺ کی مزاج شناس تھیں، وہ سمجھ رہی تھیں کہ حالات اور ماحول بدلنے کی وجہ سے آپ ﷺ بھی خواتین کے مسجد میں آنے کو پسند نہیں فرماتے۔
اس کے بارے میں رہنمائی فرمائیں۔ قرآن و حدیث کیا کہتا ہے؟
جواب
اعتکاف مرد کرے یا عورت اس کے لئے مسجد میں اہتمام کرنا ہو گا یہی قرآن وحدیث سے راہنمائی ملتی ہے۔
ارشاد باری تعالی ہے:
وَلَا تُبَاشِرُوهُنَّ وَأَنتُمْ عَاكِفُونَ فِي الْمَسَاجِدِ
اور ان سے مباشرت مت کرو جب کہ تم مسجدوں میں معتکف ہو
[البقرہ: 187]
سیدہ ام المومنین ام سلمہ رضی الله عنہا کا رسول الله صلی الله علیہ وسلم کے ساتھ اعتکاف کرنا ثابت ہے۔
[صحیح البخاری: 2037]
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَعْتَكِفُ الْعَشْرَ الْأَوَاخِرَ مِنْ رَمَضَانَ حَتَّى تَوَفَّاهُ اللَّهُ ثُمَّ اعْتَكَفَ أَزْوَاجُهُ مِنْ بَعْدِهِ، [صحیح البخاری: 2026]
یہ حدیث دلیل ہے کہ خواتین مسجد میں اعتکاف بیٹھ سکتی ہیں
اس کے علاوہ بہت ساری صحیح احادیث سے صحابیات رضی الله عنہن کا مسجد میں جا کر نماز ادا کرنا ثابت ہے
مثلا دیکھیے [صحیح البخاری: 866،867،868]
اس کے علاوہ بھی احادیث موجود ہیں۔
اس لیے یہ کہنا کہ عورت کا مسجد میں اعتکاف اور نماز پڑھنا مکروہ تحریمی ہے بلا دلیل اور باطل ہے اور الله اور رسول اکرم صلی الله علیہ وسلم سے آگے بڑھنے کی صریح جسارت ہے۔
ہاں عورت پر فرض نماز گھر میں امداد کرنا افضل ہے اور اعتکاف صرف مسجد میں ہی کرے گی اور آج جن مساجد میں محفوظ انتظام ہیں وہاں پرجا کر اعتکاف کیا جا سکتا ہے۔
نوٹ: کیا ان کی خواتین بازاروں میں نہیں جاتی ہیں جہاں سب سے زیادہ خرابیاں اور گناہ ہیں۔
اور کیا ان کی خواتین کالج،یونیورسٹیوں میں تعلیم و تدریس کے لئے نہیں جاتی ہیں؟
والله أعلم بالصواب
فضیلۃ العالم ابو انس طیبی حفظہ اللہ



