سوال (6480)
ایک خطیب صاحب خطبہ دے رہے تھے اور انہوں نے قران مجید کی ایک ایت پڑھی پھر اس آیت پڑھنے کے بعد کہا “او كما قال الله تبارك و تعالى” یہ کہنا کیسا ہے؟
جواب
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے الفاظ اگر اشتباہ ہو، بالجزم اندازہ نہ ہو، پھر یہ کہے، یہ کہنا سلف صالحین کا طریقہ رہا ہے، “او کمال قال النبی صلی الله علیه وسلم” تو ظاہر سی بات ہے کہ حدیث وحی خفی ہے، قرآن وحی جلی ہے، تو اللہ تعالیٰ کے کلام کے بارے میں “او کما قال جل و اعلی” کہہ سکتے ہیں، اگر اشتباہ ہو رہا ہے، الفاظ کی ضبط مستحضر نہیں ہے تو یہ جملہ کہا جا سکتا ہے۔
فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ
ہم جب جامعہ اسلامیہ میں پڑھتے تھے، تو وہاں ہمیں اساتذہ نے بتایا ہے کہ یہ قرآن کے بارے میں نہیں کہہ سکتے ہیں کہ اس لیے قرآن وحی متلو ہے، اس کو من و عن اس طرح بیان کرنا چاہیے۔
فضیلۃ الشیخ عبد الرزاق زاہد حفظہ اللہ




