آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت

آج اسلامی ممالک کے سربراہوں کے ظرف پر برف کی موٹی تہ جم چکی ہے۔مسلم امہ کے بدن کی اینٹیں چٹختی جا رہی ہیں، ہزاروں مسلمانوں کو بے دردی کے ساتھ شہید کر دیا گیا ہے، 60 ہزار سے زائد مسلم بچوں کے نازک اندام بچوں کے جسموں کے چیتھڑے جا بہ جا بکھرے پڑے ہیں اور اسلامی ممالک کے تمام سربراہ حالات کی اس قدر سنگینی سے بے پروا ہو چپ سادھے بیٹھے ہیں۔ مجھے کہنے دیجیے کہ آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت میں وہ تمام ممالک بھی شامل ہیں جنھوں نے ابھی تک اپنے لبوں پر سکوت طاری کر رکھا ہے۔ یقیناً وہ ممالک سب سے بڑے مجرم ہیں جنھوں نے امریکا کو اڈے دے کر بے حمیتی کی کالک اپنے مونہوں پر مَل رکھی ہے۔ اسلامی سربراہوں کی اسی سرد مہری نے مسلم امّہ کی سوختہ جبینوں پر مایوسی اور نااُمیدی کھود ڈالی ہے۔ ہر طرف سے آنے والی چیخوں کی بازگشت صرف مسلمانوں کی ہے، جہاں بھی سسکیوں اور آہوں کی صدائیں گونج رہی ہیں وہ صرف اور صرف مسلم امّہ کی ہیں۔
اور اب ایک مسلم ملک ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کو شہید کر دیا گیا۔ مجھے اس بات سے کوئی سروکار نہیں کہ آیت اللہ خامنہ ای کا مسلک کیا تھا، مجھے اس سے بھی کوئی واسطہ نہیں کہ ان کے عقائد و نظریات کیا تھے، ہاں! میں اتنا ضرور جانتا ہوں کہ قحط الرجالی کے اس دور میں عالمی بدمعاشوں کے سامنے اگر کوئی شخص ڈٹ کر کھڑا تھا تو یہی بوڑھا اور ناتواں شخص تھا، اگر کسی شخص کی زبان میں قوتِ گویائی تھی، تو یہی ایک شخص تھا، ایک سفاک طاقت کے سامنے جھکنے سے انکار کرنے والا، یہی ایک انسان تھا۔ ان حالات میں کہ جب ڈونلڈ ٹرمپ نے خلیجی ممالک اور عرب امارات سے زبان و بیان کی تمام تر صلاحیتیں صلب کر لی ہیں، آیت اللہ خامنہ ای ایک سپر پاور کی آنکھ میں آنکھ ڈال کر بات کرتا رہا۔ وہ تمام عرب ممالک کہ جن کے پاس تیل کی دولت موجود ہے وہ یاد رکھیں کہ امریکا بہت جلد ان پر بھی ایران سے زیادہ اتہامات و الزامات لگائے گا، امریکا ان سب ممالک کو بھی دھمکیاں دے گا، وہ ان ممالک میں رجیم کی تبدیلی کے لیے محاصرہ کرے گا اور پھر امریکی غلامی کے سوا کچھ بھی دائرہ ء اختیار میں نہیں رہے گا۔
بھارت بھی اس جنگ میں اپنی ٹنگڑی یہ کہ کر اَڑا رہا ہے کہ ایران میں رجیم کی تبدیلی کے لیے امریکا کو کئی ہفتوں تک ایران پر بم باری کرنا ہو گی۔
آج دنیا میں تیسری عالمی جنگ کے شعلے بھڑک اٹھے ہیں۔ اس بھانک جنگ کا آغاز ایرانی سکول کے 36 طلبہ و طالبات کو بارود کی آگ میں جھلسا کر اور ایران کے سپریم لیڈر کو شہید کر کے عالمی امن کے ٹھیکے داروں نے کر دیا گیا ہے، آج جب ایران نے بھی امریکی اڈوں پر میزائل داغ رہا ہے تب بھی کچھ لوگ تکلیف میں مبتلا ہیں اس لیے امریکی اڈے قطر، بحرین، متحدہ عرب امارات، سعودی عرب، کویت اور اردن میں موجود ہیں۔ یہ سب مسلم ممالک ہیں۔ سوال یہ ہے کہ ایران ان ممالک میں موجود امریکی اڈوں پر حملے نہ کرے، تو پھر کیا کرے؟ اس نئی جنگ کا المیہ یہ ہلہے کہ اس بار اس جنگ کی زد میں ہر طرف سے صرف مسلم ممالک ہیں۔
دنیا کے ڈیڑھ ارب سے زائد مسلمانوں میں آیت اللہ خامنہ ای ہی واحد شخص تھا جو امریکا جیسی طاغوتی قوت کے سامنے ” انکار “ کی جراَت رکھتا تھا۔ یہی ایک شخص تھا جس نے عیش وعشرت اور شان و شوکت پر سادگی کو ترجیح دی۔ میں اس درویش منش شخص کو خراجِ تحسین کیوں نہ پیش کروں کہ اس کے بیرونِ ممالک اثاثے تھے نہ جایدادیں۔

(انگارے۔۔۔حیات عبداللہ)

یہ بھی پڑھیں: اک دیا اور بجھا! شیخ الحدیث مولانا عبدالرشید ضیاء فی ذمۃ اللہ