سوال 6786
آذان دینے کے بعد موذن مسجد باہر دوسری جگہ جاکر نماز پڑھ سکتا ہے؟ بدلیل جواب مطلوب ہے۔
جواب
السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
بغیر کسی شرعی عذر کے اذان کے بعد کسی عام مسلمان کو بھی مسجد سے نکلنے کی اجازت نہیں ہے جیسا کہ جامع ترمذی کی 204 نمبر حدیث ہے:
خَرَجَ رَجُلٌ مِنَ الْمَسْجِدِ بَعْدَ مَا أُذِّنَ فِيهِ بِالْعَصْرِ، فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: أَمَّا هَذَا فَقَدْ عَصَى أَبَا الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. قَالَ أَبُو عِيسَى: وَفِي الْبَاب عَنْ عُثْمَانَ. قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَعَلَى هَذَا الْعَمَلُ عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَمَنْ بَعْدَهُمْ أَنْ لَا يَخْرُجَ أَحَدٌ مِنَ الْمَسْجِدِ بَعْدَ الْأَذَانِ إِلَّا مِنْ عُذْرٍ أَنْ يَكُونَ عَلَى غَيْرِ وُضُوءٍ أَوْ أَمْرٍ لَا بُدَّ مِنْهُ، وَيُرْوَى عَنْ إِبْرَاهِيمَ النَّخَعِيِّ، أَنَّهُ قَالَ: يَخْرُجُ مَا لَمْ يَأْخُذْ الْمُؤَذِّنُ فِي الْإِقَامَةِ. قَالَ أَبُو عِيسَى: وَهَذَا عِنْدَنَا لِمَنْ لَهُ عُذْرٌ فِي الْخُرُوجِ مِنْهُ،
ایک شخص عصر کی اذان ہو چکنے کے بعد مسجد سے نکلا تو ابو ہریرہ رضی الله عنہ نے کہا: رہا یہ تو اس نے ابو القاسم صلی الله علیہ وسلم کی نافرمانی کی ہے۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- ابو ہریرہ کی روایت حسن صحیح ہے،
۲- اس باب میں عثمان رضی الله عنہ سے بھی حدیث ہے،
۳- صحابہ کرام اور ان کے بعد کے لوگوں میں سے اہل علم کا اسی پر عمل ہے کہ اذان ہو جانے کے بعد بغیر کسی عذر کے مثلاً بے وضو ہو یا کوئی ناگزیر ضرورت آ پڑی ہو جس کے بغیر چارہ نہ ہو کوئی مسجد سے نہ نکلے ،
۴- ابراہیم نخعی سے مروی ہے کہ جب تک مؤذن اقامت شروع نہیں کرتا وہ باہر نکل سکتا ہے،
۵- ہمارے نزدیک یہ اس شخص کے لیے ہے جس کے پاس نکلنے کے لیے کوئی عذر موجود ہو
تو اب ابو ہریرەؓ رضی اللہ عنہ کے اس فرمان سے معلوم ہوتا ہے کہ اذان کے بعد بلا عذر شرعی مسجد سے باہر ہی نہیں جانا چاہیے
البتہ ایسا کوئی عذر شرعی ہو، جس کے بغیر کوئی چارہ نہ ہو جیسا کہ ہمارے ہاں یہ بھی عذر ہے کہ کسی دوسری مسجد میں امامت کروانی ہو تو یا کوئی اور ایسا شرعی عذر ہو تو مؤذن یا کوئی بھی شخص دوسری مسجد میں نماز پڑھ سکتا ہے اور اگر شرعی عذر نہ ہو تو جہاں اذان کہی ہو یا سنی ہو اسی مسجد میں نماز ادا کی جائے۔
ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب
فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر ثناء اللہ فاروقی حفظہ اللہ




