سوال 6726
السلام عليكم و رحمة الله و بركاته
شیخ محترم بسااوقات گھروں میں بچے نیچے گرتے ہیں، بعض خواتین بسم اللہ کہہ دیتی ہیں اور بعض حسبی اللہ تو کیا کہنا چاہیے یا کچھ بھی نہیں کہنا چاہیے؟ رہنمائی فرمائیں۔ بارك الله فيكم
جواب
وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
دیکھیں، یہ سب کلمہ خیر ہیں، اچھے اور پاکیزہ کلمات ہیں۔ اچھے کلمات کو شریعت میں نیک شگون اور تفاؤل کہا گیا ہے، اور یہ بالکل جائز ہے۔ لہذا بسم اللہ کہنا یا حسبی اللہ کہنا اس میں کوئی حرج نہیں۔
بلکہ اس پر استدلال بھی موجود ہے۔ وہ مشہور حدیث ہے کہ جب آدمی پھسل جائے یا گرنے لگے تو شیطان کو برا نہ کہے، کیونکہ اس سے شیطان پھول جاتا ہے اور اپنے آپ کو بڑا سمجھنے لگتا ہے۔
لیکن اگر اس موقع پر آدمی بسم اللہ کہہ دے تو شیطان اتنا ذلیل اور حقیر ہو جاتا ہے کہ مکھی سے بھی زیادہ کمزور ہو جاتا ہے۔
مزید احادیث ملاحظہ فرمائیں:
كنتُ رديف النبي صلى الله عليه وسلم فعثرت دابة, فقلتُ: تَعِسَ الشيطان فقال: لا تقل تَعِسَ الشيطان، فإنك إذا قلت ذلك تعاظم حتى يكون مثل البيت، ويقولُ: بقوتي، ولكن قل: بسم الله؛ فإنك إذا قلت ذلك، تصاغر حتى يكون مثل الذباب.
الراوي: رجل | المحدث: الألباني | المصدر: صحيح أبي داود
الصفحة أو الرقم: 4982 | خلاصة حكم المحدث: صحيح التخريج: أخرجه أبو داود (4982) واللفظ له، وأحمد (20592) باختلاف يسير
چوٹ لگتے وقت بسم اللہ کہنے کی فضیلت
ترقيم الباني: 2171 ترقیم فقہی: 3440
“اگر آپ کہتے: (خدا کے نام پر)، فرشتے آپ کے ساتھ پرواز کریں گے جب کہ لوگ آپ کی طرف دیکھ رہے ہوں گے۔”
موسیٰ بن طلحہ اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں کہ غزوہ احد والے دن مجھے ایک تیر لگا۔ میں نے کہا: «حس»۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: “اگر تم «بسم اللہ کہتے تو فرشتے تجھے لے کر اڑ جاتے اور لوگ دیکھ رہے ہوتے۔ “ [سلسلہ احادیث صحيحه المناقب والمثالب حدیث 3440 سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی:
شیخ البانی نے کہا:
“لو قلت: (بسم الله)، لكانت الملائكة تطير معك بينما ينظر إليك الناس.”
فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ
سائل: کیا کوئی ایسی حدیث ہے، جس میں حضرت حسن گرے تھے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بسم اللہ پڑھا ہو؟
جواب: لا ادری
فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ




