سوال (6613)
اپنے بیٹے کو کسی دوسرے شہر میں یونیورسٹی میں داخل کروایا جہاں مخلوط تعلیم تھی۔ ایک عرصہ بعد جب خود یونیورسٹی کا چکر لگایا، تو پتہ چلا کہ بیٹے کی کسی لڑکی سے دوستی ہو چکی ہے۔ دونوں اکٹھے گھومتے پھرتے ہیں۔ پڑھائی کی طرف توجہ ختم ہو چکی ہے۔ اور بیٹا وہاں شادی کرنے پر بضد ہے۔ جبکہ ظاہر ہے کہ دینی اور اخلاقی لحاظ سے وہ لڑکی ٹھیک نہیں ہے، رہنمائی کریں کہ ایسے حالات میں ہمیں کیا کرنا چاہیے۔
جواب
جہاں شریعت کی مخالفت ہوگی، وہاں نتائج بہت نقصان دہ ہو سکتے ہیں۔ میرے عزیز، آپ نے اپنے بیٹے کو ایسی یونیورسٹی میں داخل کیوں کروایا جہاں مخلوط تعلیم ہے، اور اب مسئلہ پیدا ہو گیا ہے۔ صبر اور حکمت سے بیٹے کو سمجھائیں، والدین کی رضا اور دینی اصول کو مقدم رکھے اور اسکا حل نکالیں۔
سب سے پہلے، بیٹے کو بلا کر اس لڑکی کے بارے میں مکمل معلومات حاصل کریں۔ گھر بیٹھے یا قیاس پر فیصلہ نہ کریں۔ جب آپ کو لڑکی کا نام اور تمام حقائق معلوم ہو جائیں، تو بیٹے کو سمجھائیں:
ہم نے اس لڑکی کے بارے میں تمام معلومات جمع کی ہیں۔ درج ذیل وجوہات کی بنا پر ہم اس شادی کے لیے تیار نہیں ہیں۔ اگر آپ اب بھی اس پر بضد ہیں، تو آپ کے لیے دو راستے ہیں: یا تو اپنی اس محبت کو ترک کریں، یا والدین اور قریبی عزیز و اقارب کی رضا اور وقار کو ترجیح دیں۔
اگر بیٹا اس کے باوجود شادی پر اصرار کرے، تو یہ واضح کر دیں کہ:
رہائش اور تمام اخراجات کا انتظام خود کرنا پڑے گا۔
والدین شادی میں شامل نہیں ہوں گے اور نہ ہی کوئی تعلق یا واسطہ ہو گا۔
بیٹے کو سوچنے کے لیے مناسب وقت دیں، مثلاً ہفتہ، دس دن یا دو مہینے، تاکہ وہ اپنی عقل سے فیصلہ کرے۔ زیادہ تر ایسی لڑکیاں صرف لڑکے کی دولت یا حیثیت کے لیے تعلق قائم کرتی ہیں۔ جب انہیں یہ سمجھ آ جائے کہ والدین ساتھ نہیں ہیں، تو اکثر معاملہ خود بخود حل ہو جائے گا۔
ان شاء اللہ، اس محتاط اور منطقی رویے سے مسئلہ بہتر طریقے سے حل ہو جائے گا۔
فضیلۃ الشیخ عبد الرزاق زاہد حفظہ اللہ




