سوال (6445)
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ صَلَّى رسول الله صلى الله عليه وسلم الظُّهْرَ وَالْعَصْرَ جَمِيعًا وَالْمَغْرِبَ وَالْعِشَاءَ جَمِيعًا فِي غَيْرِ خَوْفٍ وَلاَ سَفَرٍ،
کیا چھوٹے بچوں کی تربیت و پرورش میں شدید مصروفیت کی وجہ سے اس حدیث پر ماں عمل کرسکتی ہے؟
جواب
ماں کو چاہیے کہ جس نماز کا جو وقت ہے اس نماز کو اس کے مقررہ وقت میں ادا کرے یہی تربیت جب اولاد کو ایک ماں دے گی تو بہترین پرورش ہوگی اور وہ اولاد دین کے اس ستون کی اہمیت کو بھی سمجھے گی جب ایک ماں اذان سنتی ہے اور نماز میں سستی کرتی ہے اولاد دیکھ رہی ہے کہ ماں اس اہم فریضہ کو ادا کرنے میں سستی کر رہی ہے تو آپ اس ماں کی پرورش کو کیسے اچھی اور بہترین تربیت کہہ سکتے بچے والدین کی بات کو ان کی سب حرکات کو دیکھ کر کاپی کرتے ہیں ماں کو نماز میں سستی نہیں کرنی چاہیے۔ ہاں کبھی کبھار ایسا کوئی معاملہ ہو جائے تو رخصت دی جا سکتی۔ واللہ اعلم باالصواب
باقی مشائخ کرام رہنمائی فرما دیں گے۔
فضیلۃ الباحث حسین سوھل حفظہ اللہ




