سوال (6614)
بغیر عذر کے نمازیں جمع کرنا کیسا ہے؟ اسکی وضاحت فرمائیں۔
جواب
یہ بات بالکل درست ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے بلا خوف و بلا مطر نماز ادا فرمائی۔ جب سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھا گیا کہ ایسا کیوں ہوا، تو انہوں نے فرمایا کہ تاکہ آپ کی امت حرج و مشقت میں نہ پڑے اور آسانی حاصل کرے۔ اس بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ حقیقت میں کوئی عذر موجود تھا، اور یہ سیاق و سباق ابن عباس رضی اللہ عنہما کی وضاحت سے بھی سامنے آتا ہے۔ لہٰذا یہ کہنا کہ یہ بلا خوف و بلا مطر بالکل خود ساختہ یا عذر کے بغیر ہوا، درست نہیں، کیونکہ اصل حدیث کے الفاظ یہی ہیں: “بلا خوف و بلا مطر”، لیکن ابن عباس کی وضاحت اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ عذر موجود تھا۔
فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ




