سوال (4681)

کچھ لوگ بیرون ممالک کماتے ہیں، ان کے بچے یہاں ہوتے ہیں، وہ قربانی کرتے ہیں، وہ پیسے بچوں کے ہاں ادھر بھیجتے ہیں، اب بچے بال و ناخن کب کاٹیں گے، کیا وہ اس وقت کاٹیں گے جب سعودیہ میں عید ہوگی یا پاکستان کے وقت کا اعتبار ہوگا؟

جواب

دیکھیں حدیث کے الفاظ یہ ہیں کہ جب تک قربانی نہ کرلے بال و ناخن نہ کاٹے، تمام دلائل فہم و فقہ کو سامنے رکھیں تو اگر قربانی تاخیر سے ہو رہی ہے تو نماز کے بعد بال و ناخن کاٹنے میں تخفیف ہو جاتی ہے، واللہ اعلم میں یہی سمجھا ہوں، کیونکہ قربانی کوئی دوسرے دن کرتا ہے، کوئی تیسرے دن کرتا ہے، لیکن وہ بال و ناخن کاٹ لیتا ہے، تو یہ ایسے ہی ہے، جیسے حج میں دس تاریخ یوم النحر کو چار کام آگے پیچھے ہو جاتے ہیں تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے، یہاں بھی ایسے ہی ہے، گھر والے قربانی تک انتظار کرلیتے ہیں، تو یہ اولی ہے، اگر پہلے کاٹ لیتے ہیں تو بھی قربانی ہو جائے گی، ویسے بھی قربانی الگ حکم ہے، یہ ایک الگ حکم ہے۔

فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ